یہ وہ واحد موٹیویشنل اور انسپائریشنل اسپیکر ہے جو تلک مہتہ سے پہلے سب سے کم عمر بلینر انٹرپرینور ان دی ورلڈ تھا (انڈیا دنیا کے لیے کیسی خوبصورت مثال بنا ہوا ہے) یہ واحد انٹرپنور ہے جو اپنی ساری ریسرچ،جدوجہد اور محنت لوگوں سے شیئر کرتا ہے۔ بین الاقوامی سپیکرہے، فرنگیوں کی زبان کو میٹھا ، ملائم اور ملائی کر دیتا ہے ،ایسے لگتا ہے جیسے لفظوں کو شہد میں گوندھا گیا ہو ، حرفوں کو مٹھاس کی چاشنی میں بھگویا گیا ہو، پندرہ سیکنڈ کے اندر ناظرین کی اٹینشن کو حاصل کر لیتا ہے اور پھر پلک جھپکنے کا موقع نہیں دیتا ہے۔ اس کے سادہ، موثر اور آسان الفاظ کا نمونہ کلام ملاحظہ ہو۔۔۔!!! جب آپ چیزوں میں ٹیکنالوجی اور ٹیلنٹ کی انجینئرنگ ڈال دیتے ہیں تو آپ انویٹر بن جاتے ہیں۔ اس لئے میں کہتا ہوں ، ہم انویٹرز ہیں ڈیڈیویٹر نہیں ہیں۔ ہم نے کسی کو ماڈل کاپی نہیں کیا اور آج پوری دنیا ہمیں کاپی کیٹ کر رہی ہے۔ اس کی بات مکمل طور پر صحیح ,درست اور زبردست طمانچہ ہے جو اہل مغرب کو برتر مانتے مانتے خود احساس کمتری کے سب سے نچلے مقام میں جا گرے ہیں۔ انڈیا کے علاوہ دنیا بھر کی چالیس کمپنوں نے اس کو کاپی کیٹ کیا ہے۔ میں نے کچھ بہت بڑی کمپنیوں کے نام لکھے ہیں جنہوں نے اس کا ماڈل کاپی کیا ہے گریب ہاؤس، فیب (FAB) , کیز(KEYS) یور اون روم ، نو بروکر۔۔۔وغیرہ جیسے دنیا کے بڑے نام اور برینڈ شامل ہیں۔ اب اس سے بڑی اگر کوئی کامیابی کی ڈیفینیشن، چوٹی اور معراج ہے تو مجھے ضرور بتائیے گا۔ مجھے انتظار رہے گا؟

چلتے ہیں بقیہ کہانی کی طرف

ان کی مینجمنٹ نے 2018 میں بڑے ہوٹلز اور کارپوریٹ مینجمنٹ کے ٹاپرز کو بڑے پیمانے پرفیک ای میل بھیجی تھی آپ ہمارے ادارے کو کتنے پیسوں پر جوائن کریں گے؟ ٹاپ مینجمنٹ کی نظر میں یہ ایک ٹیسٹ ، سروے یا کریڈیبلٹی میل تھی۔ لیکن یہ شدید اور برے طریقے سے ریورٹ بیک ہوئی اور انتہائی واھیات طریقے سے اویو کے گلے پڑ گئی تھی ۔ ایسا کوئی نہیں تھا جو اس برینڈڈ کو جوائن نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ہر بندہ اس سنہرے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا ۔ یہ لوگوں کے لیے ایک پر کشش آفراس لیے بھی بن گئی کہ کمپنی کا باس بالکل بچہ نظر آتا تھا۔ بہت سے لوگوں نے اس وجہ سے اپنی آرگنائزیشن کو جب دھمکیاں دیں تو ان مالکان نے اس طوفان بدتمیزی یا نان پرو فیشنل اپروچ پر احتجاج شروع کیا۔ اور اویو کو لعنت ملامت کا نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا ۔ شبھ گھڑی کام آ ئی٫ اچانک ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں اس کا نام نہ صرف لیا بلکہ کہا اس کی کمپنی چھوٹی نہیں ہے اور اس کی ذاتی خواہش ہے ہے کہ ریتیش اگروال امریکہ میں انویسٹمنٹ کرے۔ یوں تنقید کا سلسلہ کم ہوگیا۔ پھر ایک دیرینہ دوست کی مدد جس کے بروقت مشورے پر کمپنی نے فورا اناؤنسسمنٹ کی شکل میں، اویو مینجمنٹ نہ صرف معافی مانگ لی تھی بلکہ ہمیشہ کے لئے یہ اسٹریٹجی ختم کرنے کا اعلان بھی دوہرایا۔ یہ اپنے ایمپلائی کی شکایت ملنے کی صورت میں میں, یہ بندہ فارغ نہیں کرتے ہیں بلکہ ٹریننگ سینٹر بھیجتے ہیں جہاں ریفریشر کورس ہوتا ہے۔ سخت تجربات، کڑے مراحل اور دشوار ٹریننگ سے گزارا جاتا ہے۔ اگر وہ پاس کرلے اور ان سے بخیروخوبی باہر نکل آئے تو اسے دوبارہ فیلڈ میں بھیجا جاتا ہے۔ رتیش اگروال اسے کڈز پالیسی کہتا ہے۔ اس کے مطابق اگر کوئی بچہ گر جائے تو کیا ہم اسے چھوڑ دیتے ہیں؟ یقینا جواب نہیں ہے پھر سے کھڑا کرتے ہیں اس طرح ملازم کو بھی غلطی کرنے پر دوبارہ کھڑا کریں۔ اسے کبھی ڈرانے اور دھمکانے کی حماقت نہ کریں۔ ٹیم پالیسی کو سپرسٹارٹیم پالیسی کہتے ہیں۔ ان کی ہیومن ریسورس کوالیفائیڈ بندے کا انتخاب کرتی ہے ۔ پھر اس میں سکلز، ول ہارڈ ورک، مینیجریل کوالٹیز اور لیڈرشپ سکلز ڈویلپ کرتی ہے۔ ہوٹلز کو اپ گریڈ کرنے کے لئے اس کی علیحدہ ٹیم ہے جو تین سو بندوں پر مشتمل ہے۔ ٹیکنالوجی سسٹم کے لیے اس کی الگ ٹیم ہے۔ اس کے اب 180 ممالک کے 800 شہروں میں23،000 ہزار ہوٹل ہیں۔ اس نے اپنی ایک کرپٹون ایپ بھی ڈویلیپ کی ہوئی ہے ہر ملک میں میں ان کا جو منیجر ہے اسے انٹرنیشنل ایپ کو استعمال کرتا ہے اس کی ساری کمائی یلیڈ(yield)انویسٹمنٹ، منافع ، ویلیو، انونٹیری کااستعمال اور سٹاک کی بکنگ اس لیے زیادہ پرافٹ کے لیے کمرے کے ریٹ میں ردوبدل اسی تناظر میں ہوتی ہے کیونکہ 30 ہزار ہوٹل ہیں تو 30،000 مینجر کی بجائے اس ایپ اور اس پر ڈیزائن سسٹم کے لئے صرف 120 بندے کام کر رہے ہیں۔ اس کے ہندوستان میں ملازمین کی تعداد آٹھ ہزار اور کل ملازمین کی تعداد 17 ہزار ہے۔ یہ اپنے آپ سے آگے صرف دو ہوٹلز چینز کو سمجھتا ہے اور انہیں انٹرنیشنل ہوٹل کی ریٹنگ لسٹ کے مطابق پہلے کو امریکن گینگ جب کہ دوسرے کو چائنیز گینگ کہتا ہے. ان میں سے ایک کا نام میریٹ اور دوسرے کا ویندم ہے لیکن انٹرنیشنل لسٹ اسے چوائس، ہلٹن انٹرکانٹینینٹل، بیسٹ ویسٹرن اور الکور سے پیچھے رکھتی ہے۔ تاہم جی سکس، ریڈ لائن اور ریڈیسن جیسی بڑی چینز سے آگے مانتی ہے۔ اس کی ورتھ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انڈیا میں جتنے ملکی اور غیرملکی ہوٹل ہیں ان کے تمام کمروں کو گنا جائے تو ان کے کمروں کی کل تعداد ان کے کمروں کا صرف ایک تہائی حصہ ہی بنتی ہے۔ اوپر دی گئی بڑی چینز سے مقابلے کے لئے بھی اس نے نئی ٹیم بنائی ہوئی ہے اس کے نام کی وجہ سے کام آسان ہے یہ ٹیم انتہائی پروفیشنل ، ٹاپ ایکسپرٹس اورمیکسیمم سپیڈ سے کام کرتی ہے یہ نئے ہوٹلز کو ڈھونڈ کر ان کے ساتھ کنٹریکٹ کرتی ہے۔ آپ گریڈ ٹیم کو بلا کر تزئین و آرائش کرتی ہے اور اپنے نیٹ ورک میں شامل کرتی ہے۔ یہ خود دس سال کی عمر میں کوڈنگ چکا تھا، اس لیے آپ اگر اس کی موبائل ایپلی کیشن پر جائیں تو تین کلک اور پانچ سیکنڈ میں کمرہ بک ہو جاتا ہے اور یہ ٹیم اس کے ہیڈ آفس میں ہوتی ہے یہ ہیڈ آفس آج بھی گڑگاؤں میں ہے اسے سسٹم اور ٹیکنالوجی سے بہت دلچسپی ہے یہ کروڑوں روپے انوویشن میں انویسٹ کرتا ہے اور بہت بار اسے رزلٹ نہیں ملتا اور اب تو یہ جنون اس کی پہچان بن گیا ہے لیکن اس نے اس ٹیکنالوجی اور سسٹم سے فائدہ بھی بہت اٹھایا ہے جب اس نے اپنی کریڈیبلٹی مستحکم کر لی تھی اور کسٹمر کا آنکھ بند کرکے اعتبار جیت چکا تھا،ریتیش اگروال کے لئے بزنس میں اب تیز سپیڈ کا وقت تھا تو پھر یہ ٹیکنالوجی اور سسٹم ہی تھا جس نے اسے بلٹ ٹرین اور سپر ساؤنڈ جیٹ میں میں تبدیل کیا۔ ٹیکنالوجی سسٹم نے اس کی سپیڈ ، سکیل ،کسٹمر ایکسپرینس، ایفیشنسی اور پرسنل کیبلبلٹی میں دل اور دماغ دونوں کا رول ادا کیا۔ بیرونی دنیا میں اویو جس کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتے ہیں ، ان کے سسٹم میں پہلے اپنی کرپٹون ایپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کرتے کرپٹون ایپلیکیشن پر ہی کانٹریکٹ سائن کر کے بھیج دیتے ہیں اور پندرہ دن میں ڈیل مکمل کر لیتے ہیں اگلے پندرہ دنوں میں ہوٹل اپ گریڈ کر لیتے ہیں دنیا اس کی طرف اس وقت متوجہ ہوئی تھی جب نیویارک ٹائمز میں سی بی انسائٹ رپورٹ نے بتایا تھا کہ یہ سٹارٹ اپ کی دنیا میں جلد یونی کارن بننے والا ہے میرے پاس جدید ترین لسٹ پڑی تھی میں نے دیکھنا چاہا کہ یہ شامل ہوا بھی تھا کہ نہیں؟ میں نے جب لسٹ دیکھی تو یہ نہ صرف یونی کارن کی لسٹ میں شامل ہو چکا تھا بلکہ میری حیرت کی انتہا نہ رہی تادم تحریر اب اس کی کمپنی ڈیکا کارن بننے سے صرف ایک درجہ پیچھے کھڑی ہے، اس لسٹ میں بھی اس کی کمپنی کا ایڈریس گڑگاؤں کا ہی تھا۔ کیونکہ شروع سے ہی ایک بلین ڈالر کی انویسٹمنٹ لے چکا تھا۔ بعد میں ستمبر 2018 میں اس نے سٹار ورچو سے بھی ایک بلین ڈالر انویسٹمنٹ کی مد میں میں سمیٹ لیے تھے فروری 2019 میں چینی گاڑیاں بنانے والی کمپنی دیدی چکسنگ سے ایک بلین ڈالر کی انویسٹمنٹ لی تھی اسی طرح اکتوبر میں علی بابا کے انویسٹر سافٹ بینک سے بھی 150 ملین ڈالر کی انویسٹمنٹ لی ہوئی تھی۔ مئی 2019 میں اویو نے ایمسٹرڈیم میں قائم ہونے والی لیرگروپ

(leisure group)

کے حصول کا اعلان کیا تھا جو کہ یورپ میں سب سے بڑی تعطیلات میں اکاموڈیشن دینے والی کمپنی ہے۔ اسی طرح اگست2019 میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں اپنی پہلی بڑی سرمایہ کاری لاس ویگاس کی پٹی کے قریب کسینو ہوٹرز میں قائم رئیل سٹیٹ کمپنی ہائی گیٹ کے ساتھ کی تھی اور اسے ایک سو پینتیس ملین ڈالر میں خریدا تھا۔

اس کی سپر سٹار ٹیم نے سو سال سے قائم تاج ہوٹل کو نہ صرف دھول چٹائی۔ ان کے پاس اس ہر انٹرنیشنل برینڈڈ اور بینچ مارک ہوٹل کے چیک ان اور چیک آوٹ کی تفصیل بھی موجود ہوتی ہے۔ انڈیا کے ہر برینڈ کو اس طرح شکست فاش سے دوچار کیا۔ اس کی سپر سٹار ٹیم نے ورلڈ کی سب سے بڑی اکاموڈیشن ائیربی این بی کو بھی دن میں اس طرح تارے دکھائے کہ ان کے نام پر فنڈنگ حاصل کرنے والا نہ صرف ان کے سسٹم کو چیلنج کرتا ہے بلکہ اس کا بنا ہوا یہ غیرمعمولی سسٹم ہرانٹرنیشنل ہوٹلز کی چینز آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا ہے آؤ سٹینڈرڈز، کوالٹی اور ایزینس کی نئی ریس کا آغاز کرتے ہیں۔ ایئربی این بی کا سسٹم کس طرح اس کے سسٹم سے پیچھے ہے وہ ملاحظہ فرمائیں!!! وہ عین موقع پر کینسل کر دیتے ہیں، اویو نہیں کرتا! ایئر بی این بی کی تصویر اور جگہ میں فرق ہو سکتا ہے لیکن اویو جان لڑا دیتا ہے اپنی کمٹمنٹ پوری کرنے کے لیے اس کے علاوہ جتنے حفاظتی اقدامات ہوٹل میں ہیں وہ کسی گھر کے پورشن میں ممکن نہیں، ٹرینڈ سٹاف بھی اسے اس سے ممتاز کرتا ہے۔۔ رتیش اگروال کے خیالات بہت زبردست، انتہائی موثر اور بے باکانہ حد تک سلوشن بیس ہیں۔ اسی لیے دنیا بھر میں کاروباری کانفرنسوں اور کارپوریٹ اداروں میں اسے موٹیویشنل سپیکر کے طور پر بلایا جاتا ہے, اس ینگ، انرجیٹک اور بلا کے ذہین انٹرپرینور نے پتا نہیں کتنے ایوارڈ اپنے نام کیے ہیں۔ وہ آ ج تھیل فاؤنڈیشن کا سب سے بڑا ساتھی بھی ہے۔ کووڈ کے متعلق اس کی رائے ہے کہ ایوی ایشن اور سنیما تھیٹرز کہ بعد سب سے زیادہ ایفیکٹ ہوسپٹلٹی سروس انڈسٹری کو پہنچا ہے۔ اس کا ماننا ہے کے صحت دنیا کا چوتھے یا پانچویں نمبر کا ایشو ہے لیکن مستقبل میں یہ پہلے نمبر کا ایشو بن جائے گی۔ برے حالات کے متعلق وہ کہتا ہے

WHEN SEA’S HAVE STORMS THE FISHERMAN COMES AND REPAIR THE NET.

(جب سمندر میں طوفان ہو تو ملاح کو اپنا جال کومضبوط، ٹھیک اورمرمت کرنا چاہیے)

یہ اپنا فیصلہ خود کرتا ہے نہ کو پارٹنرز کے دباو میں آتا ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ اگر اس نے کسی دن کسی کا فیصلہ کیا تو اس کا فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ وہ صرف اگزیکیوٹ کر رہا ہوگا۔ یہ اس دن سلف ریٹائرمنٹ لے چکا ہوگا۔ اس کی پسندیدہ کتاب ایلان مسک کی بایوگرافی ہے اور پسندیدہ ڈاکومنٹری “وہ لوگ جنہوں نے امریکا تعمیر کیا ہے”۔ اس کا کہنا ہے امریکہ میں اگر انٹرپرینور نہ ہوتے تو وہ کبھی سپرپاور نہ ہوتا۔ یہ بزنس مین ہی تھے جن کے ملٹی نیشنل برینڈ نے امریکہ کو امریکا بنایا۔ وہ کہتا ہے کہ آپ کسی ملک میں بڑے بزنس مین ڈویلپ کر دیں اگلا سپر پاور ملک وہی بن جائے گا۔ زندگی کا واحد پچھتاوا اور دکھ یہ ہے کہ اس کے ذہن میں یہ آئیڈیا 2012 میں آیا تھا لیکن اس نے یہ کام 2013 میں شروع کیا , وہ کہتا ہے کہ کاش میں پیچھے جا سکتا اور اس چیز کو ٹھیک کر سکتا! اس کی کامیابی کا راز پوچھیں تو صرف دو چیزیں بتاتا ہے پہلے نمبر پر چیلنج دوسرے نمبر پر اپرچونیٹی مانتا ہے ۔ کامیابی کے متعلق صرف اس کا ایک ہی قول ہے بار بار وہی دہراتا ہے

THERE IS ALWAYS LIGHT AT THE END OF TUNNEL.

(سرنگ کے دوسرے کنارے پر ہمیشہ روشنی ہوتی ہے)

اس نے جولائی 2021 میں گلوبل انسٹیٹیوشنل انویسٹرز سے 6.6 بلین ڈالرجیسی خطیر اور بڑی رقم لے کر تمام لوگوں کی انویسٹمنٹ واپس اورڈیبٹ بک کلوز کر دی تھی۔ اپریل2021 میں اس کے دوالییہ پن کی خبریں مارکیٹ میں گردش کی تھیں جس سے شیرز کا ریٹ نیچے گرنا لازمی تھا۔ یہ شبھ گھڑی کا چکر تھا یا کریڈیبلٹی کا چھکا شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ لیکن بعد میں ریتیش اگروال نے بتایا کہ صرف ایک ہوٹل والے کی درخواست پر صرف ایک ہوٹل کی نیلامی ہوئی تھی اور بعد ازاں رتیش اگروال کی بات سچ ثابت ہوئی تھی۔

جون 2019 میں اویو رومز نے ایئر بی این بی اور یاترا کے ساتھ مل کر کنفڈر یشن آف ہاسپٹلٹی ٹیکنالوجی اینڈ ٹوارزم انڈسٹری کی چیٹ تشکیل دی یہ ہندوستان کا ایک نیا صنعتی سیاحتی ادارہ ہے۔

ختم شد

پس تحریر

اویو کے بانی رتیش اگروال اور میک اپ موگول کائلی جینر کے کاروبار میں شاید زیادہ چیزیں مشترک نہ ہوں لیکن دونوں کاروباری افراد کا ایک ہی باوقار اعزاز ہے۔ دونوں ہی ‘ینگسٹ سیلف میڈ بلینیئر’ کا خطاب رکھتے ہیں۔ دونوں ہی ہیرون رچ لسٹ کے تازہ ترین ایڈیشن میں کائلی جینر (22) نمبر پر اور رتیش اگروال (26) نمبر پر براجمان ہیں.

مزید پس تحریر

کہانی ختم ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن سٹارٹ اپ کرنے کی روشنی، آواز اور امید کی خوشبو آتی رہے گی۔۔۔۔۔۔۔۔

جب بھی کوئی اس کو پڑ ھے گا۔۔۔۔۔

جب بھی کوئی یادداشت میں محفوظ حصہ دہرائے گا۔۔۔۔

یا رتیش اگروال کے نام پر کسی کے ذہن میں مسکراہٹ آئے گی۔۔۔۔

اگر آپ کو کہانی پسند آئی ہو تو پہلا کام یہ ہے۔

کب کر رہے ہیں آپ اسٹارٹ اپ۔۔۔۔۔؟؟؟؟

تحریر حماد رضا

عبداللہ گارڈن- فیصل آباد

Leave a Reply

Your email address will not be published.