میں بچپن سے ہی ارلی برڈ چلا آرہا ہوں۔ آج سنڈے چھٹی کا دن تھا. علی الصبح واک  کے بعد گھر واپس آیا تولان میں پڑی پول چیر پر ہی نیم دراز ہوگیا، کانوں سے ہیڈ فون اتار کر میں نے آنکھیں موندھ لیں کچھ لمحوں بعد بڑی خوبصورت اور دلفریب سی آواز آ نا شروع ہوئی.  میری نظر نے آواز کا تعاقب کرتے ہوئے انٹرنل لان سے آؤٹر لائن میں لگے بلندوبالا درختوں، ویریڈیکٹ ٹرمنیریا پر پڑی تو دو  انتہائی خوبصورت، بہت چھوٹی اور ملٹی کلر چڑیاں  درخت کے پتوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتی خوش اسلوبی سے پتوں کو بھی کتر کر کھا رہی تھیں ۔ میں اس خوبصورت منظر دیکھنے میں محو ہو گیا اور شاید منظر کا حصہ بھی بن جاتا لیکن دماغ کے تیسرے حصے پروگرامڈ برین نے رتیش اگروال کے نام کی بے آواز سی سرگوشی کی۔ میں نے  جونہی اسے سوچا دماغ کے پہلے پارٹ فرنٹل لوب نے پھر مجھے واپس منظر کی طرف دھکیلا، دو طرفہ خیال تیسرے خیال میں منتقل ہوا جہاں کل کے حصہ میں میں نے ایٹمی سائنسدان اورسابق صدر ڈاکٹر عبدالکلام صاحب کا ذکر کیا تھا۔ا یٹمی سائنسدان اور سابق صدر عبدالکلام کے بعد ریتیش اگروال واحد شخصیت ہے جس کی آنکھوں میں انہی جیسی معصومانہ سادگی اور نرم عاجزی کی چمک ہمیشہ مجھے نظر آتی ہے۔  لوگ اس سادہ صدر کو people’s president بھی کہتے تھے۔ انہوں نے ایک بار جب ڈیفنس ریسرچ آرگنائزیشن اینڈ  ڈویلپمنٹ سے وابستہ تھے توانتظامیہ نے  حفاظتی انتظامات کے لئے دیوار پر کانچ کے ٹکڑے لگانے کا منصوبہ بنایا منصوبہ صرف اس وجہ سے ڈاکٹر عبدالکلام نے رد کر دیا کہ پرندوں کو دیوار پر بیٹھے میں مشکلات پیش آئیں گی۔ بھارت جیسے متشدد معاشرے میں ڈاکٹر صاحب جیسا محنتی شخص جب احترام کا استعارہ بن جاتا ہے تو یقینا حیرانگی بھی ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ یہ حیرانگی اس وقت مسکراہٹ میں بدل جاتی ہے کہ ایک ایسا شخص جو پرندوں کی تکلیف سے آگاہ ہے اسے کیوں کر نہ اتنا احترام دیا جائے۔  (یہاں کچھ ایسے دوست ہوں گے جو ان پر میری ایک بہت پرانی تحریر آف کورس۔ ہیومن ریسورس۔ پڑھ چکے ہیں۔ اس غیر معمولی کہانی نے بھی اسی ڈی۔ آر۔ڈی- او میں ہی جنم لیا تھا)چند ثانیوں بعد بات میرے ذہن میں خیال کی چوتھی کونپل بھی پھوٹنے لگی۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ،” جنت میں ایسے لوگ داخل ہوں گے جن کے دل پرندوں کے دلوں جیسے ہیں ” (مسلم: 7341) میں نے جب بھی اپنے دل کو ٹٹولا ہے تو میں نے ہمیشہ محسوس کیا کہ شاید میں پرندہ دل نہیں ہوں۔ میرا دل لوبھ، ہوس، ریاکاری، لالچ, حسد ،بغض کینہ ،چغلی اور بدظنی سے بھرا بلکہ آٹا اور بپھرا ہوا ہے۔ میں نرم دلی سے بھی یکسرمحروم ہوں۔ لیکن میں نے ایک چھوٹا سا کام کیا ہوا ہے , اپنے گھر میں 4 بڑے باغیچے اور 8 چھوٹے باغیچے بنائے ہوئے ہیں۔ان باغیچوں میں قرآن و حدیث کی ازلی اور ابدی روشنی سے اخذ کردہ چند پھل دار درخت اس نیت سے لگائے ہیں کہ پرندے زیادہ مقدار میں آئیں اور ان کی مہمان نوازی میں کوئی کسر، کمی اور کوتاہی نہیں ہونی چاہیے ۔ وہ گاتے ،مسکراتے اور چہچہاتے رہیں۔ اور شاید  میں بھی ان کو دیکھ کر کبھی سدھر ہی جاؤں۔۔۔۔شاید۔۔۔۔!!! چلتے ہیں  جہاں کل کہانی ختم ہوئی تھی۔ دلی واپس آتے ہی  اس نے جو ہوٹلز کی مجموعی لسٹ بنائی تھی ان میں سب سے پہلے وہ ہوٹل نکالے جن کے سو سے کم کمرے تھے اور یہ نان برانڈڈ تھے۔ اس کی ڈیٹا بیس اور ریسرچ لسٹ نے کمال کر دیا۔ کیونکہ دنیا بھر میں سو سے زائد کمروں والے ہوٹل برنیڈڈ تھے  اور دس پرسنٹ لوگ ان کے لائل کسٹمر تھے  جبکہ 90% لوگوں کو سو سے کم کمرے والے نان برینڈ ہوٹل سوٹ کر تے تھے۔  ۔ یہ ایسا انداز نظر اور زاویہ نگاہ تھا جس پر کسی کی نظر نہیں گئی تھی۔ اس نے ضائع شدہ،  بے کار اور ان فارغ ایسٹس  کو اپنا برینڈ بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے ان کے سر پر ہاتھ رکھا۔ اور ان کو امید دلائی  کہ یہ بھی بڑا ، غیر معمولی اور مستقل منافع کما سکتے ہیں۔ اسے پتہ تھا کہ فور سٹار ہوٹل سو کروڑ سے کم اور فائیو سٹار ہوٹل کے لئے کم از کم تین ارب سے زائد کی رقم درکار ہوتی ہے اس لئے اتنی رقم کا ریٹ آف انویسٹمنٹ نکالنا بہت مشکل اور پرافٹ کمانا محض خواب ہو جائے گا۔۔!!! اب اس نے صرف ان سے معاہدہ کرنا تھا اور OyO کا بورڈ لگانا تھا۔ لیکن اس نے اپنی ڈیٹا بیس لسٹ کو اور شارٹ لسٹ کیا۔ پہلے وہ ہوٹل ڈھونڈے جن کی لوکیشن کسی مال، ریلوے اسٹیشن، ایئرپورٹ  یا جہاں پر زیادہ کاروباری دفاتر ہوں. مسلسل سفر اور بے شمار ہوٹلوں میں رہ کر اسے اپنی ٹارگٹ آڈینس کو ڈھونڈنا تھا اور اس کے اپنے ذاتی تجربے نے بتا دیا تھا، کسٹمر کم قیمت میں اچھی کوالٹی چاہتے ہیں تو یہی پالیسی تشکیل دی۔  اب اس نے ہوٹلز سے معاہدے کرنے شروع کر دیے. ہوٹل مالکان اس کی ون او ون پالیسی کے ہاتھوں مجبور بے بس اور لاچار تھے۔ اب جب اس نے بیچ میں امریکہ سے پڑھا ہوا سسٹم ڈالا  تو ان کے پاس ہاں کے علاوہ کوئی آپشن بچتی ہی نہیں تھی۔ ہوٹل مالکان کے متعلق اس کی پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔

۔ یہ انہیں بزنس دیتا تھا

۔ اپنا برانڈ نیم دیتا تھا

۔ ٹیکنالوجی مہیا کرتا تھا

۔ تھرڈ پارٹی مارکیٹنگ جو دوسرے لوگوں سے کر رہے ہوتے تھے اس میں مدد کرتا تھا

۔ کسٹمر ریلیشن ڈویلپ کرتا تھا

۔ عام کسٹمر کو لائل کسٹمرز میں تبدیل کر دیتا تھا

۔ سروسز

رتیش اگروال کا ماڈل ہوٹل کی آکوپینسی  کو دو سے ڈھائی گنا بڑھا دیتا ہے۔

یہ اپنے ان چھوٹے ہوٹل پارٹنرز کے ساتھ اس حد تک وفادار ہے کہ کرونا کے دنوں میں جب کاروبار پوری طرح سے ڈوب گیا تھا۔ تو اس نے انہیں اٹھتا لیس کروڑ روپے کی ربیٹ دی تھی۔ اس نے ہوٹلز کے ریٹ کو بھی سیزنل پرائس سے نکال کر  ایئرلائنز کے ماڈل کی طرح ڈائنامک پرائسسز میں کنورٹ کیا جس کی وجہ سے ہوٹل مالکان کا کوئی کمرہ بھی خالی نہیں رہتا ہے۔ اور یہ لوگ اس سے کس حد تک وفادار ہیں میں نے اس کا انٹرویو دیکھا جس میں انہوں نے اس سے پوچھا ؟ اویو جیسے کامیاب بزنس کے بعد اس نے اتنے سارے پنگے کیوں لیئے۔؟ اویو ورک سپیس، اویو فوڈز اویو ویڈنگز۔۔۔؟؟؟  اس نے پہلے سے زیادہ مسکرا کر انتہائی دھیرے نرم اور میٹھے لہجے میں بتایا۔ ہوٹل میں بزنس سینٹر ہوتا ہے اس نے اسے اویو ورک پلیس میں تبدیل کر دیا۔  ہوٹل میں کچن ہوتا ہے اس کو اویو فوڈز میں تبدیل کر دیا ہے،  ہوٹل میں بینکوٹ ہال ہوتا ہے اس کو اس نے اویو ویڈنگز میں تبدیل کر دیا،  وہ کہتا ہے میں نے اپنا بزنس نہیں بدلا اس کا کور بزنس  پرائمری، شارٹ ٹرم ، لونگ ٹرم  اور مین بزنس اکاموڈیشن ہی ہے اور یہ اس کے ارد گرد گھومنے والے شارٹ سروسز بزنس ہیں۔  سب سے رومان انگیز بات یہ ہے کہ ورک پلیس ہو ریسٹورنٹ ہو یا بینکوٹ ہال جس پر بھی OYE کا بورڈ لگا ہے ان ساری جگہوں میں 75 پرسنٹ جگہ اس کو اس کے اپنے کوپارٹنرز نے دی تھی۔  اس کے بزنس میں پرابلم آتی ہے تو وہ ذمہ داری خود لے لیتا ہے اور جو اچھا ہوتا ہے اس کا کریڈٹ اپنے کوپارٹنرز کے نام منسوب کر دیتا ہے۔ اسی طرح اس نے کسٹمرز کے لیے بھی ناقابل تسخیر، ناقابل شکست اور ناقابل فراموش ماڈل ڈیلیور کیا اس پر بھی نظر ڈالیے۔

۔ قابل بھروسہ سروس

۔ گڈ پرائس

۔ آسان بکنگ

۔ اچھی لوکیشن

ٴ۔ اویو سپورٹ

ریتیش اگروال اس کے لیے اس حد تک گزر گیا کہ اس نے انسٹنٹ چیک ان کی بجائے بغیرویٹ کے چیک ان کو ممکن بنایا  جنوری 2021 سے اس نے سسٹم بنایا ہے کہ اگر سال میں صرف تین کسٹمرز کو ویٹ کرکے چیک ان کا سامنا کرنا پڑا تو یہ ہوٹل سے کونٹریکٹ ختم کر دے گا۔ اس کا ماننا ہے کہ اگر کسٹمرز ہیں تو ہم ہیں اور کسٹمرز ہمارے پارٹنرز ہیں۔ اس نے ہر چھ ہوٹل  کے اوپر ایک کلسٹر مینیجر رکھا ہے۔ وہ ہر دن میں ایک ہوٹل میں جاتا ہے اور یوں 6 دنوں میں چھ ہوٹل پورے کر لیتا ہے۔ اسے اگر کسی کمرے میں پانی کا گلاس تک بغیر ڈھکے  نظر آ جائے حتی کہ اگر وائی فائی کے سگنل بھی کمزور ہوں تو وہ بلیک روم کی تختی لگا دیتا ہے تو جب تک وہ کمرہ ٹھیک نہیں ہوتا نہ اس کی بکنگ ہو سکتی ہے اور نہ ہی وہ رینٹ آ وٹ ہو سکتا ہے۔ اس کے زیادہ تر ہوٹل لو بجٹ میں ہیں تو یہ  کامن اسٹینڈرزاور کامن  پراسیس کو بار بار دہراتا ہے۔ اس کی تکنیک کسٹمر کو بار بار اسی کے پاس لے آتی ہے۔ اس کی اپلیکیشن یا ویب سائیٹ پر جو کمرہ دکھایا جاتا ہے گاہک کو بالکل ویسا ہی کمرہ اور ایکسپرنیسس ملتے ہیں۔ میں نے اس کی ایپلی کیشن خود دیکھی ہے۔ تصویر کے اوپرون ایکس، ٹو ایکس اور تھری ایکس لکھا ہوتا ہے تاکہ کسٹمر کو پتہ چل سکے کہ وہ کون سا کمرہ بک کرنے لگا ہے۔ یہ نہ ہو کہ وہ کسی اور کیٹیگری میں جا کے کمرے بک کروائے  اور پھر جب اسے کمرہ اور ملے تو یہ بعد میں تنازع کا باعث بنے۔ یہ ہوتا ہے فول پروف سسٹم۔  تصویر میں اگر ماؤنٹین ویو ہے  تو آپ کو عملی طور پر بھی  مونٹین ویو ملے گا۔ جب آپ کی سپیڈ ان کنٹرول (UN CONTROL)  ہو تو غلطیوں کا چانس اور حماقتوں کا خطرہ سر پر لٹکتی تلوار ہوتا ہے۔ ہوٹلز میں جب اس طرح کی پرابلم آتی ہے  اور آپ کی کوئی سن نہیں رہا ہوتا ہوٹل والے ان باتوں کے عادی ہوتے ہیں اور ان کا روزمرہ کا معمول ہوتا ہے(شاید آپ بھی کبھی اس تجربے سے گزریں ہوں۔ خود ایک دفعہ میں نے وزیر اعظم کے ایک مہمان کی فیملی سمیت  ہوٹل والوں کے ہاتھوں درگت بنتی دیکھی تھی لیکن اس میں مہمان کی بد اخلاقی اور میری ذہانت کا بھی کمال تھا یہ کہانی پھر سہی) لیکن انہوں نے اس کا بھی حل نکالا ہوا ہے ، اپنی ایپلی کیشن پر ہوٹل سے متعلقہ بندہ رکھا ہوا ہے جو کمپلین کی صورت میں فوری ایکشن لے لیتا ہے  اور اگر معاملہ سنجیدہ نوعیت کا ہو تو ہوٹل کو ڈیلیٹ کرنے میں ایک سیکنڈ نہیں لگاتا۔ سٹاف اور ٹیم بلڈنگ پر اس نے  اس طرح کام کیا ہے کہ مغربی ممالک کی ہیومن ریسورس بھی اس کے سامنے سر نیچے کیے ،کندھے جھکائے،  سینہ سکو ڑے اور ہاتھ باندھے کھڑی ہے۔ اگر آپ کو میری بات میں مبالغہ آرائی محسوس ہو رہی ہے تو ذرا یہ واقعہ ملاحظہ کریں۔  آپ اس کے ویژن کا اندازہ صرف اس بات سے لگائیں انتہائی جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے اس کو کچھ بندوں کو فارغ کرنا پڑا اور ان کی کسی دوسرے حصے میں بھی گنجائش نہیں نکل رہی تھی۔ ریتیش اگروال نے ان سارے ملازمین کو پہلے کال سینٹر میں جاب دلوائی پھر انہیں علیحدہ ہوٹل کا بزنس شروع کروایا یوں یہ فارغ بندے اب 11 ہوٹلز کے مالک ہیں اور یہ بات اسے بے تحاشہ خوشی دیتی ہے۔ اور ایک لمحے کے لیے عاجز،منکسرالمزاج اور مہربان شخص کی آنکھوں میں غرور کا شائبہ چند لمحوں کے لیے لہراتا ہے اور پھر اتنی ہی تیزی سے معدوم ہو جاتا ہے۔(یہ واقعہ پڑھنے کے بعد میں تو خود سے آنکھیں نہیں ملا پایا) اس نے اپنے سٹاف کی ٹریننگ کے لیے 26 انسٹیٹیوٹ بنائے ہوئے ہیں۔ اس کے گیارہ سی ایکس او (chief experience officer) جو اس کی بزنس کو چلا رہے ہیں اور ان کو بے شمار ٹریننگز کروائیں۔  ان کا اتنی اچھی طرح خیال رکھا جاتا ہےاور آج تک اسے اس کے سلوک کی وجہ سے کوئی چھوڑ کر نہیں گیا۔ بظاہر ہموار، درست اور سیدھے رستے پر چلتے ہوئے ادارے کے انتہائی پروفیشنل ٹرینڈ اور ٹاپ مینجمنٹ نے  اچانک ایک  خوفناک غلطی کر دی اور ہندوستان کے کارپوریٹ اداروں میں بھونچال آگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔)

(TO BE CONTINUED…..)

Leave a Reply

Your email address will not be published.