میں نے پچھلے دنوں رتیش اگروال کا بزنس سٹارٹ اپ پر موٹیویشنل اور انسپائریشنل لیکچردیکھا۔ رتیش اگروال جیسے ہی آڈیٹوریم میں داخل ہوا لوگ نشستوں سے اسطرح اٹھ کر کھڑے ہوئے جیسے نیچے سپرنگ لگے ہوئے ہوں، یوں تالیاں بجاتے رہئے جیسے یہ کامیابی ان کی ہو۔ اسے اس طرح خراج تحسین پیش کیا گیا جیسے وہ قومی ہیرو، فاتح یا سربراہ مملکت ہو۔ ایٹمی سائنسدان اور سابق صدر عبدالکلام کے بعد یہ واحد شخصیت ہے جس کی آنکھوں میں انہی جیسی معصومانہ سادگی اور نرم عاجزی کی چمک ہمیشہ مجھے نظر آتی ہے۔ وہ اپنے لیکچرمیں پانچ کہانیاں سناتا ہے میں ان کا نچوڑ اور حاصل لکھ رہا ہوں۔ کوالٹی ایجوکیشن اور ڈگری ایجوکیشن میں یہی فرق ہوتا ہے آپ کو گلا پھاڑنے کی ضرورت نہیں ہوتی اگر آپ کے پاس کہنے کے لیے اچھی کہانی ہو۔ آپ ذرا ملاحظہ فرمائیں

بزنس میں سب سے پہلے آپ ہوتے ہیں جس کو اس سبجیکٹ کا ماہر بننا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ کامیابی کا کوئی گر، آپشن اور وجہ نہیں ہوتی۔ وہ کہتا ہے میں نے دنیا کے ٹاپ کنزیومر لیڈرز دیکھے ہیں۔ جتنا وہ کسٹمر کو سمجھتے اور جانتے ہیں،اتنا ہی وہ کسٹمر کے ساتھ کنیکٹ ہوتے جاتے ہیں حتی کہ یہ ان کی سوچ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کیونکہ کوئی دوسرا اس سوچ کے لیول تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ اس بات کی اھمیت کو جانتا ہے اس لیے وہ مارکیٹ کا رخ بھانپ نہیں سکتا ہے۔

دوسری کہانی یہ ہے کہ اتنی محنت کریں کہ آپ کی پروڈکٹ مارکیٹ میں فٹ ہو جائے۔ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کہ آپ کی پروڈکٹ مارکیٹ کو بھی بے چین نہ کردے۔

تیسری کہانی یہ ہے! کبھی توپ سے چڑیا کا شکار نہ کریں ہمیشہ ہاتھی کو نشانہ بنائیں۔

چوتھی کہانی دو بندوں پرکبھی اعتبارنہ کریں۔ پہلا کنسلٹنٹ اور دوسرا امیگرنٹ ملازم۔

پانچویں کہانی کبھی بزنس شروع کرتے وقت ، بزنس کے دوران اور امپلائی رکھتے وقت جگاڑ (اندھا دھند/شارٹ کٹ) نہ لگائیں۔ ہمیشہ پلے بک سے کام کریں۔ چلتے ہیں جہاں سے ہم نے پہلے حصے کو ختم کیا تھا۔ اس نے ہودا سٹی سینٹر کا رخ کیا اور ایک ہوٹل کے مالک سے ملا، مالک کا نام راجیش یادہو ہے اور اسے بتایا کہ اس کے اس بڑے شہر اور کاروباری مرکز میں ہونے کے باوجود بھی اس کے ہوٹل کے ساٹھ سے سترپرسینٹ کمرے خالی ہیں اور بھرپور سیزن میں بھی آدھے کمرے خالی رہتے ہیں۔

رتیش اگروال کا موقف تھا کہ وہ اس کے سارے کمرے کرائے پر چڑھا سکتا ہے لیکن وہ جاب نہیں کرے گا۔ وہ کمیشن پر کام کرتا ہے اور اگر رزلٹ آ جاتا ہے تو وہ اسے کمیشن کے پیسے دے ورنہ گڈ بائے۔ ہوٹل کے مالک کو ڈیل پسند آئی لیکن رتیش اگروال کی کم عمری بھولی اور معصوم صورت ڈیل کے آڑے آ رہی تھی۔ رتیش اگروال یہی چاہتا تھا کہ جب وہ سوچ میں الجھ جائے تو وہ اپنی بلی تھیلے سے باہر نکالے۔ وہ مالک اسی کے ہوٹل کے کانفرنس روم میں لے گیا اور کہا یہ ون او ون آفر ہے۔ راجیش یادہو کو وہ ون او ون بزنس کا آئیڈیا نہیں تھا اس نے پوچھا کہ یہ کیا ہوتا ہے؟ ریتیش اگروال نے کہا! وہ ہوٹل کورینویٹ کرے گا ، کرائے پر چڑھا ئےگا۔ گھاٹے کی صورت میں اکیلا نقصان برداشت کرے گا لیکن اگر منافع ہوتا ہے تو مالک کو پرافٹ ففٹی ففٹی پرسینٹ کرنا پڑے گا۔ ہوٹل مالک راجیش یادہو کواس ڈیل میں ہر طرف سے فائدہ ہی فائدہ تھا، رتیش یادیو نے سوچا کہ یہ ضرور کسی امیر باپ کی اولاد ہے اس نے اسے خلوص دل سے مشورہ دیا کہ کیوں اپنے پیسے ضائع اور برباد کر رہے ہو پھر اپنا بڑا فائدہ سوچ کر کہا کہ تم جیسے لوگ میرے پاس پہلے کیوں نہیں آ ئے؟ رتیش اگروال کی اس شاندار ڈیل کو اس نے سائن کر کے اس دے دیا (راجیش یادہو آج رتیش اگر وال کا بہت گہرا دوست ہے) ڈیل اوکے ہوئی۔ تو اس نے واپس دہلی آ کر صدر بازار کی ہول سیل مارکیٹ سے ستر ہزار روپے کا دو ہوٹلوں کا سامان خریدا اور وٹل کے ہر کمرے تزئین و آرائش کردی. یہ کمرے میں کیا تبدیلیاں کرتا تھا سب سے پہلے کمرے کو روشن بناتا تھا۔ اس کے لئے دو ٹیبل لیمپ اور ایک سٹینڈ لیمپ خریدتا تھا۔ روشن کمرے میں نئی بیڈ شیٹ اور نئے پلوکور، صاف کویلٹ مزید جان ڈال دیتے تھے۔ کمرے کو انتہائی دیدہ زیب اور جاذب نظر بنانے کے لیے لیمنٹی کا بہت زیادہ استعمال کرتا ہے (مختلف چیزیں جیسے لکڑی، کپڑا ، کاغذ وغیرہ کے چپکنے والے ٹکڑے جو دیواروں اور فرنیچر پر چپک جاتے ہیں۔) اب کمرہ پوری طرح سے جگمگا اٹھتا تھا۔ دوسرا فوکس باتھ روم تھے۔ باتھ روم کو رپیئر کراتا اور ٹوٹی چیز کی جگہ نئی چیز لگاتا۔ ٹویلٹری کٹ (سستا برش, ننھی پیسٹنگ ٹیوب چھوٹی کنگھی، چھوٹا صابن اور شیمپو کا ساشے پیک پر مشتمل ہوتی تھی اب تو اویو اپنا معیار بہت بہتر بنا چکا ہے) کا پیکٹ بھی باتھ روم میں موجود ہوتا تھا۔ باتھ روم اور کمرے کو اسی حالت میں برقرار رکھنے کے لیے اس نے صفائی کا سامان بھی وافر مقدار میں خریدا تھا۔ سوشل میڈیا پر تصاویر اپ لوڈ کیں۔ ہوٹل کی بیرونی دیواروں پر تجدید شدہ کمروں اور باتھ روم کی تصویریں کی فلیکس چسپاں کی۔ اب یہ کم عمر لڑکا جس نے ہوٹل کا ٹرانسفارمڈ کیا تھا۔ خود ہی مارکیٹنگ کر رہا تھا۔ خود ہی فرنٹ آفس ورک کر رہا تھا۔ خود ہی مہمانوں کے ساتھ ٹائم سپینڈ کر رہا تھا۔ اس نے ایسی آفر متعارف کرائیں کمرہ صرف 99 روپے میں بھی رات کے لئے مل جاتا تھا۔ اس طرح اس نے ہوٹل کے سارے کمرے رینٹ آؤٹ کر دیئے۔ راجیش یادہو نے اپنا دوسرا ہوٹل بھی اس کے حوالے کردیا۔ یہاں بھی اسے کامیابی مل گئی۔ پھر اسے دن میں چھ سے سات فون کالز آنی شروع ہوگئیں۔ کہ ہماری پراپرٹی بھی لے لو۔اسے بھی اسی طرح رینٹ آ وٹ کردو۔اسی عرصہ میں گڑ گاؤں کے کئی لوگوں نے اپنی پراپرٹیز اس کے حوالے کردیں، وہ اسے کرائے پر چڑھا دے اور آدھے پیسے اس کے۔ اس نے اس کام میں بھی ہاتھ ڈال دیا۔ اس نے تیسرا ہوٹل لیا اور پرابلمز شروع ہوگئیں یہ کسی چھوٹے ہوٹل کی چین کی طرح کام کر رہا تھا اکیلا ہر چیز سے لڑ رہا تھا۔ اسے تین لاکھ پرافٹ ہو رہا تھا۔ دو لاکھ خرچ میں نکل جاتے اگلے ایک لاکھ سے نیا ہوٹل خرید لیتا۔ زندگی سیٹ ہو گئی تھی۔ لیکن جب چوتھا ہوٹل خریدنے گیا تو پتہ چلا ہاؤس کیپنگ والا بندہ کام چھوڑ گیا ہے۔ سروسز میں بھی پرابلمز آنی شروع ہو گئی تھیں۔ یہ سٹک ہوگیا اور اس نے چوتھے ہوٹل سے ڈیل تو کر لی لیکن تجربہ کافی مہنگا پڑنے لگا اور روزبروز مشکلات میں بھی اضافہ ہوا۔ یہاں سےoye(اویو) کا خیال پھوٹا. لیکن انویسٹمنٹ نہیں تھی، پراپرٹریننگ نہیں تھی اور سسٹم بھی نہیں تھا۔ انہی دنوں پے پال کے بانی اور شریک پارٹنر سر پیٹر پال تھیل فیلوشپ کے نام سے بیس سال سے کم عمر کے نوجوانوں کے لیے بزنس سٹارٹ اپ، انٹرپرینورشپ اور ایئر بی این بی کا پلان تھا۔ پیٹرپال کی نظر میں صرف وہی لوگ اہل تھے جو دنیا کی بڑی مشکلات کا حل نکال سکیں یا بڑے پیمانے پر ویلو ایڈ کرسکیں۔ اور وہ وہاں ٹریننگ دیتا تھا ۔ اس ٹریننگ کے بعد کالج کی ایجوکیشن کی ضرورت ہی نہیں رہتی تھی۔ اس کے سارے پروگرام آدمی کو فعال بنانے اور قائدانہ صلاحیت باہر نکالنے کے لیے تھے۔ ریتیش اگروال کو کالج نہ جانے کے پیسے مل رہے تھے اور یہ اس کے لیے مزے کی بات تھی۔ آخری تاریخ 31 دسمبر 2013 تھی اوراس نے 1جنوری 2014 میں یہ فیلوشپ اپلائی کی۔ اب پتا نہیں شبھ گھڑی اس کے کام آئی یا اس کی سادگی پر قدرت کو رحم آگیا۔ پیسیفک اوشن ٹائم کے فرق کی وجہ سے یہ ایک دن آگے ہوتے ہوئے بھی اور ڈیٹ (over date) نہیں ہوا۔ اس ٹریننگ کے لیے انڈیا سے کسی اور شخص نے اپلاۓ ہی نہیں کیا تھا۔ شبھ گھڑی کا پہلا جیک پا ٹ لگ چکا تھا۔ یہ تھیل فیلوشپ کے لیے چن لیا گیا تھا۔ یہ امریکہ چلا گیا پھر اس ٹریننگ نے اسے سر تا پا بدل دیا۔ اسے پتہ چل گیا جتنا بڑا سوچتے ہیں اتنا ہی بڑا ملتا ہے۔ دوسرا آپ نے ہمیشہ انویٹو پروڈکٹ چننا ہوتی ہے۔ اس کے خیالات وعادات نے اس کی پیٹر پال سے دوستی بھی کرادی۔ فیلو شپ ختم ہونے پر اسے ایک لاکھ ڈالر ایئربی این بی کی مد میں تو ملے ہی ملے۔ اسے ایک بڑا انویسٹر بھی مل گیا۔ پیٹر پال بڑے پروجیکٹ میں ہاتھ ڈالتا تھا فیس بک جیسے بڑے اداروں میں بھی اس کی انویسٹمنٹ تھی۔ بعد میں رتیش نے اس سے بہت بڑی اماؤنٹ انویسٹمنٹ کی مد میں لی تھی ۔ پیٹر پال نے جو اس کے بارے میں کہا تھا وہ آج بھی کہیں میرے دل کو چھوتا ہے! رتیش اگروال نے انویسٹمنٹ کے لیے اڑتیس بار اس کا فالو اپ کیا تھا۔ پیٹرپال کہتا تھا کہ مجھے نہ Oye میں اور نہ ہی رتیش اگروال میں کوئی دلچسپی تھی۔ میری دلچسبی کا اگر کوئی محور تھا ۔ وہ جواس نے اسطرح فالو اپ کیا ، دلچسپی یہ تھی کہ جو بندہ اتنی دفعہ فالواپ کرسکتا ہے یہ انویسٹمنٹ کو کبھی ڈوبنے نہیں دے گا۔ ریتیش اگروال ٹریننگ کے بعد جونہی دلی واپس آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔)

(TO BE CONTINUED…..)

ہمیشہ کامیاب رہیں۔ کامران رہیں۔

حماد رضا

Leave a Reply

Your email address will not be published.