تری دیو سات جولائی 1989 کو انڈیا میں سلور سکرین پر ریلیز کی گئی تھی۔ اس کو ارشد پرویز نے لکھا تھا۔ ڈائریکٹر راجیو رائے کی ملٹی سٹارر فلم میں بیک وقت تین ہیرو تھے۔ فلم کے تیسرے ہیرو کمرشلز فلمز کےخوبصورت اور ڈیشنگ ہیرو کے برعکس پیرلر سینما سے لیے گئے تھے۔ یہ ایوریج شکل ایورج پرسنلٹی کے مالک تھے۔ یہ میتھڈ ایکٹنگ کے بادشاہ تھے اور پیرلر سینما دیکھنےوالوں موسٹ فیورٹ، موسٹ ڈیمانڈنگ اور ایکسٹریملی ہٹ ہیرونصیر الدین شاہ تھے۔ ان کے ساتھ اس وقت کی سپر اسٹار، ‏ہاٹ اور گولڈن گرل سونم کو کاسٹ کیا گیا تھا۔ دوراندیش ،قریبی اور تاڑنے والے لوگ بھانپ گئے تھے، ڈائریکٹر راجیو رائے اس سونے کی چڑیا پر کسی خوبرو ہیرو کا سایہ ڈالنا نہیں چاہتے تھے(دو سال بعد راجیو رائے نے سونم سے شادی کرلی تھی۔ اس طرح ان کا فلمی کیرئر ختم ہوگیا تھا)۔ بہرحال تجربہ کامیاب ہوا اور فلم سپرہٹ ہو گئی تھی۔ اس فلم میں ان دونوں پر ایک گانا اوئے اوئے فلمایا گیا تھا۔ اس گانے نے فلم کی مقبولیت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ یہ نہ صرف سپر ڈوپر ہٹ بلکہ بلاک بسٹر ثابت ہوا میوزک چارٹ میں ٹاپ ون پر تھا اور بچے بچے کی زبان پر بھی چڑھ گیا تھا۔ پاکستان میں بھی کوئی ایسی یونیورسٹی اور کالج نہیں تھی جہاں نوجوان دن بھر اس گانے کا طوفان بد تمیزی برپا نہ کر لیتے تھے۔ فیصل آباد کا باغ جناح ہو یا لاہور کا ریس کورس اسی طرح کراچی کا کلفٹن یا کسی بھی شہر کی مشہور، فیملی تفریحی جگہ جہاں پر فیملیز کا تانتا بندھا ہوتا تھا اچانک کہیں سے ایک منچلوں کی کوئی ٹولی نمودار ہوتی اور اونچی اور سریلی آواز میں اوئے اوے کہتی تھی۔ ہر کوئی ان کی طرف متوجہ ہوتا۔ انہیں کسی کی نفرت ،حقارت اور دھتکار زدہ نگاہوں کی پرواہ نہیں تھی۔ گلا پھاڑ نے اور سو کوششوں کے بعد اگر کوئی اگر نگاہ التفات ڈال لیتا تو وہ خود کو بڑا ایکٹر، سپر اسٹار، اور ہیرو نمبر ون سے کم نہیں سمجھتے تھے۔ گانے کی گونج پاک و ہند سے نکل کر مغرب میں بھی گئی، انہوں نے بھی دھن میں تھوڑی سی ردوبدل کے بعد اس پر اپنا راگ الاپنا شروع کیا اور اس عرصے میں اوئے۔ اوے کی ہاہ ہاہ کار اس طرح مچی تھی کہ ہر آواز پست، گم اور گمنام ہو کر کہیں پیچھے رہ گئی تھی۔ دوسری بار پھر ہندوستان سے OyO ۔ OyO کی ایسی بھرپور صدا بلند ہوئی جس کی بازگشت نے پوری دنیا کے کانوں میں رس گھولا وہیں بڑے بڑے انٹرپرینور کے کانوں کو کامیابی کی اس اونچی، گہری اور بلند آواز نے انہیں گہری نیند سے بیدار کر دیا تھا۔ وہ ہر بڑا کر اٹھ بیٹھے تھے لیکن آواز کی بازگشت اور گونج پوری دنیا میں نہ صرف سنائی دی رہی ہے بلکہ اپنائی جا رہی ہے بلکہ ہر جگہ ماڈل بزنس کے طور پر پڑھائی بھی جا رہی ہے اور یہ چیونٹی کی مدھم سی سرسراہٹ سے شروع ہوکر یکایک اب ایک ہاتھی کی چنگھاڑ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ یہ انیس سو ترانوے میں اڑیسہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کٹک میں پیدا ہونے والے رتیش اگروال کی ہے۔ چھوٹے سے گاؤں کا یہ سیدھا سادہ بھولا نوجوان انتہائی عاجز، دھیما سلجھا ، سادہ ، چپ چاپ اور مٹی ہوئی سی شخصیت ہے۔ وہ بہت دھیرے اور دھیمے لہجے سے بات کرتا ہے۔ ہر وقت اس کے چہرے پر ایک خوبصورت ، میٹھی اور ملائم مسکراہٹ کھیلتی ہے۔ اس کی بات میں عقل، لونگ ٹرم ویژن، قابلیت اور حکمت عملی بولتی نظر آتی ہے۔ یہ پیدا ہوا تو جس نے اس کی جنم کنڈلی بنائی وہ بہت مشہور جوتشی تھا۔ جب اس پنڈت کی کنڈلی بناتے وقت ہاتھ اور جسم کانپا اس نے گہری خاموشی سے کنڈلی اس کے والد کے حوالے کردیں۔ تو انہوں نے پوچھا مہاراج کیا مسئلہ ہے؟ اب بول کیوں نہیں رہےہو؟ بچے کے بھاگوں میں کوئی گڑ بڑ تو نہیں ہے؟ جوتشی کے منہ سے سرسراتی ہوئی سی آواز برآمد ہوئی کہ اس نے اپنی پوری زندگی میں ایسی کنڈلی نہیں دیکھی اور وہ چاہتا ہے کہ وہ یہ کنڈلی اپنے استاد کو دکھائے؟ والد نے کنڈلی اس کے حوالے کردی اور یوں وہ اسے لے کر اپنے استاد کی تنہائیوں میں مخل ہوا ، جب شرف باریابی کا ازن ملا تو اس نے استاد کے سامنے سب سے پہلے کنڈلی رکھ دی۔ تیاگی پنڈت جوں جوں کنڈلی پڑھتا جاتا اس کے ماتھے کی شکنوں میں اضافہ ہوتا جاتا تھا پھر اس نے اپنے شاگرد سے پوچھا کہ بولو تم نے کیا اندازہ لگایا ہے؟ پنڈت نے جواب دیا مہاراج میں نے تو آپ سے سیکھا ہے اس کے مطابق میں نے اس طرح کی شبھ کنڈلی آج تک نہیں دیکھی ہے، بڑے پنڈت نے ہاتھ سے ماتھا اس قدر مسلا کی قشفہ کے نشان مدہم پڑنے لگے۔ غیر معمولی ، لاشعوری اور ٹریگر ہیپی کے طور پہ اس کے ہاتھوں کا دباؤ گلے میں پڑی ہوئی زنار پر منتقل ہوا تو زنار جھٹکے سے ٹوٹ گئی، سفید اور نیلے منکے مٹی کے کچے فرش پر اچھلتے دور دور تک پھیل گیے۔ چھوٹے جوتشی کے لئے سب کچھ حیران کن تھا وہ بار بار استاد کے رنگ بدلتے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ کافی دیر بعد جب جوتشی پرسکون ہوا تو اس نے اس چھوٹے پنڈت کو بتایا کہ اس نے بھی زندگی میں ایسی کنڈلی نہیں دیکھی۔ یہ بچہ سال کی سب سے شبھ گھڑی میں پیدا ہوا ہے۔ اور یہ کوئی بڑا شبھ کرے گا۔ اب گھر والوں کے لیے یہ بہت قیمتی، لاڈلا اورانوکھا بچہ بن گیا تھا۔ گھر والوں نے اپنی اوقات سے بڑھ کر اسے کانونٹ سکول میں ڈالا اور بعد میں سینٹ جانس سینئر اسکول سے اس نے ہائی سکول (F.A) کی ڈگری لی۔ اسکول کی فیس ڈالرز میں تھی۔ یہ آج بھی موٹیویشنل لیکچر دیتا ہوا اپنے والدین کا شکریہ ادا کرتا ہے اوروہیں اسکول کو بھی دعائیں دیتا ہے۔ یہ جب چھوٹا تھا تو اس نے اپنی بڑی بہن کے منہ سے انٹرپرینور کا لفظ سنا تھا۔ بڑی بہن نے یہ نام کالج میں سنا تھا۔ رتیش کو یہ نام بہت کول لگا اور اس کے من کے اندر کی گہرائیوں میں جا کر مضبوط ، دیرپا اور جادوئی نقش کی طرح پیوست ہوگیا تھا۔ جب اس نے سکول میں یہ لفظ بولا تو اس کے کلاس فیلو،دوست اور عزیز و رشتہ دار اس کے اس علمی کمال سے بہت متاثر ہوئے پورے گاؤں میں اس کی دھاک بیٹھ گئی تھی۔ اس نے اپنی پورے مہینے کی پاکٹ منی ایک سو پچاس روپے جمع کی۔ ساری رقم کا نیٹ پیکج خرید کر انٹرپنیور پر ساری تفصیلات اکٹھی کییں۔ اسے چین نہیں مل رہا تھا اور بعد میں دل، دماغ اور روح میں یہ کیڑا اتنا کلبلایا کہ اس کے منہ سے یہ نعرہ اور سگنیچر ٹیون اس کا تکیہ کلام بلکہ حاصل کلام بن گئی تھیں۔ یہاں تک کہ جب کوئی استاد پوچھتا کہ آپ بڑے ہو کر کیا بنو گے؟ جب ہر بچہ ڈاکٹر، انجینئر اور پائلٹ کہہ رہا ہوتا تو یہ بڑے جوش و خروش سے میں انٹرپرینور بنوں گا کا صاف، سیدھا اور سچا جواب دیتا تھا۔ جہاں کہیں انٹرپرینور کا لیکچر ہوتا یہ پہنچ جاتا تھا، ہائی سکول پاس کرنے سے پہلے اس نے ٹریولنگ سٹارٹ کردی تھی۔ یہاں اس کا واسطہ مختلف ہوٹلوں، ریزورٹس، گسیٹس رومز اور ریسٹ ہاؤسز سے پڑا۔ اسے اپنی منزل نظر آگئی۔ اب گھر والوں کی نظر میں یہ پڑھ رہا تھا۔ لیکن ساری پاکٹ منی ٹریولنگ اور ہوٹلنگ پر لگ رہی تھی۔ جب پیسے ختم ہوجاتے جو تو یہ کسی بھی قسم کی انٹرنشپ کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ یہ سفر کرنے سے پہلے اس علاقے کے سارے ہوٹل کو ای میل کرتا کہ وہ ہوٹلنگ پر ریسرچ کر رہا ہے اور وہ اس صنعت میں انقلاب لانا چاہتا ہے۔ تو کچھ ہوٹلزز اسے فری مل جاتے، کچھ میں 50 سے 70 پرسنٹ تک ڈسکاؤنٹ ہو جاتی ہے۔ اور کچھ سے منع کر د یتے۔ اس نے سو سفر کیے یے اور 200 مختلف جگہ پر قیام پذیر رہا تھا۔ یہاں اس نے اکاموڈیشن سے جڑے تمام اداروں کی خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لیا تھا۔ اسے پتا چلا ہوٹل اور اقامتی جگہوں کے واش روم اکثر چوک ملتے ہیں۔ واش بیسن غلیظ اور گندے ہوتے ہیں حتی کے کئی بار تو چونا اکھڑا ملتا ہے، واش روم کی جگہ جگہ سے ٹوٹی اسیسریز آپ پر انتہائی برا اثراور کئی بار طبیعت کو مکدر کر دیتی تھیں۔ بستر کی چادریں نے اپنا اصل رنگ و روپ کھو کر بد رنگ ،بد شکل اور بد ہیت ہو چکی ہوتی تھیں، چیک ان اور چیک آؤٹ دشوار مرحلے ہیں۔ ملازمین کا رویہ انتہائی بدتمیزانہ اور بعض دفعہ تو گستاخانہ بھی ہوتا ہے۔ اس نے اس نے سترہ سال کی چھوٹی عمر میں ہی ایسے ہوٹلوں کی لسٹ بنانا شروع کر دی تھی۔ ہائی اسکول پاس کیا اور لندن یونیورسٹی انڈین بزنس سکول دہلی کیمپس میں میں داخلہ لیا تھا۔ اس کے سبجیکٹ انٹرپرینورشپ، بزنس اسٹارٹ اور ایئر بی -این- بی تھے تین دن بعد اس کا دل بھر گیا یونیورسٹی کو خدا حافظ کہا۔ اور نیو دہلی کے جنوب مغربی شہر گڑگاؤں چلا گیا۔ اس اہم مالیاتی اور صنعتی شہر کو کنگڈم آف ڈریمز بھی کہا جاتا ہے۔ رتیش سب سے اہم کام پہلے ہی مکمل کر چکا تھا ،اس کے پاس ہوٹلوں کی لسٹ تھی۔ یہ اس کے ذہنی ڈیٹابیس کا ایک شاہکار تھی۔ اس کمال لسٹ کا ٹارگٹڈ شہر جہاں تصویری مقابلوں اورلارج تھیٹریکل کمپنی کے لیے مشہور تھا وہیں اپنی سولائزڈ آبادی جہازی سائز کے انفراسٹرکچر اوراس کی وجہ سے ہونے والی بڑی شہرکاری کے لئے بھی ایک بڑا نام بن چکا تھا یہاں 2012 میں 19 سال کی عمر میں میں اس اوریل کمپنی کے نام سے آغاز کیا تھا۔

….جاری ہے

To be Continued….

ہمیشہ کامیاب رہیں۔ کامران رہیں

حماد رضا

Leave a Reply

Your email address will not be published.