4. VALUATION- REASONABLE PRICE

آپ ساتویں حصے میں پہلے تین اینالائزنگ اور ریسرچ فیکٹر پڑھ چکےہیں، جو میں نے بیان کیے ہیں۔امریکہ اور ہر ملک میں اس کی تعریف پر بہت ساری کمپنیاں پوری اترتی ہیں لیکن یہ مہنگی ہوتی ہیں اس لیے وارن کو ان میں دلچسپی نہیں ہوتی آپ پانچویں حصے میں پڑھ چکے ہیں کہ کس طرح چارلی منگر اسے شاندار کمپنیاں کم قیمت پر خرید کر دیتا ہے۔ وارن اس کی وجہ بیان کرتا ہے اگر آپ کمپنی مہنگی خرید لو گ تو آپ کا پرافٹ کم ہونے کا چانس بڑھ جاتا ہے۔ یہ غلطی کئی بار بڑے بڑے انویسٹر کر جاتے ہیں، وہ اچھی کمپنی تو چن لیتے ہیں لیکن اس کی قیمت بہت زیادہ ادا کرتے ہیں۔ وارن بفٹ اس کے لئے جس کمپنی کو خریدنا چاہتے ہیں پہلے اس کی پوری انٹرزنسک ویلیو نکالتے ہیں، انہیں پتہ لگانا ہوتا ہے کہ پوری کمپنی کی حقیقی ویلیو کیا ہے؟ یہ ہمیشہ ایک اندازہ ہوتا ہے. کیونکہ آپ کسی بھی کمپنی کی ایکچوئل ویلیو ایگزیکٹلی نہیں لگا سکتے؟ یہ ہمیشہ ایک اندازہ ہی ہوتا ہے۔ اس کی آسان سی مثال آپ کو سمجھانے کے لیے اس طرح ہے کہ آپ نے کسی کو بتانا ہے  کہ کوئی شخص موٹا ہے تو اب اسے اندازے سے کہہ سکتے ہو کہ یہ ایک سو تئیس سے ایک سو ساٹھ کلو گرام کا ہو گا۔ اب آپ کو یہاں ایگزیکٹ اندازہ لگانے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ 147 کلو کا ہی ہے۔بالکل سٹاک کا اسی طرح ان ٹیرانسک ویلیو نکالا جاتا ہے۔پھر اس ایسٹیمیٹ پرائز کو مارکیٹ کے  پرائس سے کمپئر کرتے ہیں۔ اگر وہ سٹاک ان کے ایسٹیمیٹ پرائس سے سستا بک  رہا ہے تو وہ اسے خریدنے کا سوچتے ہیں اور اگر مہنگا ہوتا ہے تو پھر اس کے لیے کم ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ وارن بفٹ انٹری لیول نکالتے کیسے ہیں؟ اس کا فارمولا حسب ذیل ہے

BUFFETT’S VALUATION FORMULA.

1. OWNERS EARNING
2. DISCOUNT AT
3. LONG-TERM GOVERNMENT BOND RATE.

آپ کو بس کمپنی کے مالک کی کمائی کو ڈسکاؤنٹ کرنا ہے گورنمنٹ کے لونگ ٹرم بانڈز ریٹ سے اس طرح جو کمپنی کی پریزنٹ ویلیو ہوگی وہ اس کی ایکچول ویلیوہوگی۔ اب کچھ کو اونر ارننگ کا پتہ نہیں ہوگا؟ باقی ذہنوں میں سوال پیدا ہوگا کہ یہ ڈسکاؤنٹ ریٹ کیا ہوتا ہے؟ اور بچے ہوئے لوگ پوچھیں گے کہ گورنمنٹ کا لانگ ٹرم بانڈ ریٹ کیا ہوتا ہے؟  یہ سب آپ کو کو پڑھنے میں مشکل لگ رہا ہے ہے باقی یہ ایک بہت آسان تصور ہے. اگر آپ نان فنانس بیک گراونڈ سے بھی ہیں تو آسانی سے سمجھ جائیں گے۔ انویسٹمنٹ میرے حساب سے بہت آسان چیز ہوتی ہے۔ اور زندگی میں یاد رکھیں جو آپ کو کہے گا , یہ مشکل ہوتی ہے وہ ضرور آپ کو کچھ بیچنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے یہ میرا ذاتی تجربہ ہے۔ اب میرے دوسرے حصے میں وارن بفٹ کی کہی ہوئی بات یاد کریں۔

IF CALCULUS ALGEBRA WAS REQUIRED FOR INVESTING I WOULD HAVE TO GO BACK DELIVERING NEWSPAPERS.

جہاں میں نے لکھا تھا کہ وہ بیسک میتھ سے کام کرتا ہے جو اس نے اپنی والدہ سے سیکھا تھا پلس ،مائنس ، ملٹی پلائی اینڈ ڈیوائڈ اور وہ بھی کیلکولیٹر کے بغیر اپنے دماغ میں کرتا ہے۔ اگر آپ کو بھی بھی جمع منفی ضرب تقسیم آتی ہے ہے تو آپ ویلیویشن کر سکتے ہیں۔ (خود میں نے دو ہزار چار میں پہلی دفعہ میں نے ایک غیر ملکی بینک کا بجٹ سات دن کے اندر بنایا تھا، پریشرکی وجہ سے کھانے پینے کا ہوش نہیں تھا صرف چائے اور کافی کی بریک لیتا تھا کمرے کا دروازہ بھی لاک رکھتا تھا۔ بعد میں جب میں نے اسمارٹ کیلکولیٹنگ شروع کی تو پھر میں نے نے بہت سے ملکی اور غیر ملکی بینکوں کا بجٹ دو سے صرف ڈھائی دنوں میں بنا دیا ) آپ کو بس تھوڑے سے کونسپٹ کلیئر کرنے ہوتے ہیں اور باقی ساری چیزیں آپ کی کامن سینس کی ہوتی ہیں۔ وارن کو بھی اگر یقین آجاتا ہے کہ یہ کمپنی بیس سال تک چلے گی اور اس کے پرافٹ کوئی چھین نہیں سکتا یعنی اس کا پرافٹ بڑھے گا۔ تو وہ ان سے اتنی پیسوں کی توقع رکھتے ہیں جتنے امریکہ میں لونگ ٹرم بانڈ سے پرافٹ آتا ہے۔ جیسے پاکستان میں اس کا آج کا ریٹ سیون پوائنٹ ٹو فائیو پرسنٹ ہے۔ امریکہ میں اس کا ریٹ چھ پرسنٹ ہے وارن یہاں کوئی  رسک کے لیے کوئی ایکسٹرا ریٹرن ایکسپکٹ نہیں کرتے ان کے بقول کمپنی میں انویسٹ کرنے کیلئے اس کے رسک کو پرسنٹیج کے ذریعے نہیں ماپ سکتے۔ (بزنس کوالٹی  کے دوسرے پوائنٹ نو نیڈ ٹو وری رسک کی جو مثال میں نے اس وقت نہیں دی تھی کیونکہ مجھے پتا تھا کہ وہ بات یہاں خود بخود کلیئر ہو گی) یعنی وہ انویسٹ ہیں وہاں کرتا ہے  جہاں بزنس بیس سال مسلسل  پرافٹ بھی دے گا  آگے بھی پڑے گا اور بند بھی نہیں ہوگا تو رسک کہاں سے آگیا؟ اس لئے وہ رسک کو اویلویٹ ہی نہیں کرتا۔

Real valuation example.
THE WASHINGTON POST.
IN 1973.

OWNERS EARNING = $10.4 M
LONG TERM GOVERNMENT BOND RATE = 6.8 %
VALUE OF THE BUSINESS = $ 15O M

واشنگٹن پوسٹ کی اونر ارننگ اس وقت وقت 10.4 M تھی اور لانگ ٹرم گورنمنٹ بانڈ  6.8 پرسنٹ تھا تو کمپنی کی کرنٹ ویلیو 150 ملین ڈالر نکل آ ئی یہ کس طرح ہوا ملاحظہ کریں

10.4 ÷ 068. = $152M

اور کمپنی کے اس وقت مارکیٹ پرائس تھی  اسی ملین ڈالر

MARKET PRICE =$ 80 M.   
(ALSO BUYING PRICE)
SAVED = 45 %
(Margin of safety)

اس طرح وارن بفٹ کو اس کمپنی میں 45 پرسنٹ کا مارجن آ ف سیفٹی ملا۔ اسی پر وارن بفٹ کا مشہور قول ہے

Success comes to those who love doing what they are doing.

اب جب ساری چیزیں سمجھ چکے ہیں تو وارن بفٹ کے پانچ انویسٹنگ پرنسپل بھی ہیں

  1. BE A BUSINESS ANALYST.

یعنی  پوری دنیا یا سٹاک مارکیٹ میں کیا ہو رہا ہے ہے اس پر دھیان دینا ہی نہیں ہے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے آپ کو صرف یہ دیکھنا ہے کہ اس کمپنی میں کیا ہو رہا ہے۔کیونکہ اکثر اچھی کمپنیاں خریدنے کے موقعے سٹاک مارکیٹ کے قریب کے دوران ہی آتے ہیں۔ بقول وارن

The stock market is a device that transfers money from patients to inpatients.

مجھے اس کی اس بات کی اس وقت پوری سمجھ آئے جب میں نے اس کا ایک دوسرا قول دیکھا جب میں نے اس کے ساتھ نتھی کیا تو پورا مطلب میری سمجھ میں آگیا۔ دوسرا قول ملاحظہ کریں۔

Fearful when others are greedy and greedy when others are fearful. (warn)

(جب سب لالچی ہوں تو ڈرو اور جب سب ڈر رہے ہو تو لالچی بن جاؤ)

2. CHOOSE THE BEST.

یعنی آپ کو تنوع کی ضرورت نہیں ہے آپ کو پچیس کمپنیاں سلیکٹ کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ آپ کو بس بیسٹ کمپنی کا پورٹ فولیو کریٹ کرنا ہے ۔ چاہے وہ تین کمپنیوں کا ہو یا پانچ کمپنیوں کا وہ بھی چل جائے گا۔کیونکہ بقول وارن بفٹ 

Risk comes from not knowing what you are doing.

(خطرہ بے خبری میں منڈلاتا ہے جب  آپ کو پتہ نہیں ہوتا کہ آپ کیا کر رہے ہو) یعنی  تنوع کے نام پر آپ پانچ کمپنیاں ایسی ایڈ کر رہے ہو جن کو آپ آپ نہیں جانتے تو پورٹ فولیو کا رسک کم ہونے کی بجائے زیادہ ہو جائے گا۔

3. BET BIG WHEN IT IS TIME TO.

یعنی جب آپ کو ایک اچھی کمپنی سستی قیمت میں مل رہی ہو تو وہ ایک کمپنی ہی کافی ہے آپ کو امیر اور امیر ترین بنانے کے لیے اس لیے آپ کو یقین اور اعتماد کے ساتھ اس میں بڑی رقم انویسٹ کرنی چاہیے۔

4. IGNORE THE ECONOMY.

 پورے ملک میں کیا چل رہا ہے؟  معیشت کس  کنڈیشن میں ہے؟ کونسی حکومت آئی ہے؟ کتنے لوگوں کو جاب سے نکالا جا رہا ہے؟ یہ سب چیزیں پر فوکس کرنے کی آپ کو ضرورت ہی نہیں کیونکہ ریسیشن  اور مارکیٹ سائیکل آتے رہتے ہیں۔

5. WHEN YOU BUY A GOOD COMPANY HOLD IT FOREVER.

اگر آپ نے اچھی کمپنی خریدلی  اور اس کا مینجمنٹ سسٹم بہت اچھا ہے اور اس کی معاشی حالت بھی کافی مضبوط ہے اور آپ نے اسے مناسب قیمت پر خریدا ہے ایسی کمپنیز کو ہمیشہ کے لئے ہولڈ کرنا چاہیے اس طرح ہولڈ کر کے رکھیں. جس طرح آپ نے وہ کمپنی خود سٹارٹ کی تھی۔ اب آخری تکنیک جس کا میں نے پچھلے حصے میں کہا تھا ڈیٹیل اور مثال لکھوں گا۔

∆∆∆ COMPOUND EFFECT ∆∆∆

فرض کریں کہ ایک شخص دفتر میں کام کرتا ہے اور آٹھ گھنٹے بعد چھٹی کرتا ہے اگلے دن دس منٹ پہلے چلا جاتا ہے پھر اس سے اگلے دن بیس منٹ پہلے چلا جاتا ہے ہے اسی طرح  تیسرے دن تیس منٹ پہلے چھٹی کر جاتا ہے اسی ترتیب سے وہ ساتویں دن  ایک گھنٹہ پہلے چلا جاتا ہے اب اس کے دل میں خیال آتا ہے ہے کہ میرا باس مجھے کچھ کہہ نہیں رہا  تو وہ باس کے پاس جاتا ہے کہ میں یہ کر رہا ہوں, تو اس کا باس جواب دیتا ہے کیونکہ تم نے کل کام کیا تھا، تو اس لیے تم جا سکتے ہو!!! یعنی آپ نے 10 ہزار روپیہ کسی کمپنی میں انویسٹ کیا ہے , آپ کو پانچ پرسنٹ پرافٹ ملا ہے پانچ سو روپے ,اب یہ بھی ساتھ انویسٹ ہوگیا ہے اب 500 پر بھی پرافٹ شروع ہو جائے گا. اس طرح پرافٹ در پرافٹ آپ کو ملتا رہے گا اور کچھ سالوں تک وہ رقم جب بڑھ کر پانچ لاکھ روپے تک پہنچ جائے گی تو آپ کو پانچ لاکھ پر پانچ پرسنٹ کا پرافٹ 25ہزارملا یہ آپ کی بیسک انویسٹمنٹ جو 10 ہزار روپیہ تھی اس سے ڈھائی گناہ زیادہ ہے ہے پاکستان میں کئی کمپنیاں ہیں جن کا شیر آج سے 17 سال پہلے تین روپے تھا جو آج بڑ ھ کر ایک ہزار روپے تک آگیا ہے  یعنی  جس شخص نے خریدا ہوگا اس  کو تتیس ہزار تین سو تینتیس  پرسنٹ کا ریٹرن صرف ایک شیر پر ملا ہے۔ (جاری ہے۔۔۔۔۔۔)

(To be continued…)

عرض مصنف۔۔۔۔۔

آپ کو حصہ ہفتم اور ہشتم میں اعداد و شمار کا گورکھ دھندا، ماڈرن بزنس کی ٹرمز، مارکیٹ کے پچیدہ فارمولے، اکاؤنٹس کے داؤ پیج، منی مینجمنٹ کی سیکرٹس، فنانشل فریڈم ، رییل فنانشل فریڈم کے انٹلکٹس و مس ڈیریکٹس فنانس، ری فنانس کی میٹرکس اور ری کلیکٹس کی زناٹے دار آواز، کانوں کے راستےگرجدار گونج کے ساتھ دل میں اترتی ہوئی سنائی دے گی۔ان دونوں حصوں کو قرطاس پر اس طرح بکھیرا گیا ہے ایک عام قاری یا نان فنانشل بیک گراونڈ والی شخصیت پڑھتے ہوئے مشکل، دقت اور دشوارگزار ی کا شکار نہ ہوں ، تحریر میں دلچسپی برقرار بھی رہے اور وہ بلا دشوار ، باآسانی اور پورے سکون سے سمجھ سکے اور ایمپلمنٹ کر سکے۔

ہمیشہ خوش رہیں۔سدا خوشیاں بکھیرتے رہیں

حماد رضا

Leave a Reply

Your email address will not be published.