آپ بزنس کو اچھی طرح سمجھنا چاہتے ہیں؟

سادہ، مؤثر اور بھروسہ مند  پارٹنر شپ کرنا چاہتے ہیں؟؟

آپ اسٹاک میں انویسٹ کرنا چاہتے ہیں  کہ پیسہ ڈوب نہ جائے؟؟؟

تو پھر وارن بفٹ  برکشائر ہیتھوے کے لیٹر ٹو ہولڈر سے سیکھتے ہی جو آج ہر بڑی یونیورسٹی کے ریسرچ پیپر ہیں۔ وارن بفٹ بزنس کو چار اینگلز سے اینالائز کرتے ہیں۔

بزنس کوالٹی

مینجمنٹ کوالٹی

فنانشل کوالٹی

ویلوایشن

( Valuation or Reasonable Price)

اب میں نیچے اس کی ڈیٹیل لکھ رہا ہوں اور اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ایک چھوٹا بزنس مین اسے کس طرح سمجھے گا؟ اس کے ذہن میں یہ خیال بھی آسکتا ہے کہ مجھے تو اتنی چیزوں کا پتہ بھی نہیں ہے  اس میں اچھی بات یہ ہے،   وران بفٹ سال میں صرف ایک کمپنی میں ہی انویسٹ کرتا ہے۔ اس سے زیادہ وہ انویسٹمنٹ  نہیں کرتا۔ آپ کے سفر کا آغاز بھی  صرف ایک کمپنی سے ہی ہونا چاہیے۔آپ کو ایک ساتھ دس سے پندرہ کمپنیوں کےسٹاک یا اس میں انویسٹمنٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اسے کراس چیک بھی کر سکتے ہیں دنیا کے ارب پتی جیسے مارک زکر برگ، بل گیٹس، مکیش امبانی یا میاں منشا, یہ لوگ ایک ساتھ دس بزنس شروع نہیں کرتے۔ یہ ایک بزنس سے شروع کرتے ہیں۔ اس پر پورا فوکس کرتے ہیں پھر جب وہ بزنس کامیابی کے سنگ میل عبور کرنے لگتا ہے تو دوسرا بزنس شروع کرتے ہیں۔ وارن بفٹ بھی ایک ہی بزنس کو چنتے ہیں ,اس کی اچھی طرح ڈیپ ریسرچ کرتے ہیں۔بزنس کو پورا سمجھتے ہیں پھر جب  پوری طرح سمجھ اور پسند آ جاتا ہے تو اسے خریدنے کا سوچتے ہیں۔ یعنی حاصل کلام یہ ہے کہ آپ کو صرف ایک بزنس میں انویسٹمنٹ کرنی ہے۔ اس کی پوری ریسرچ کرنی ہے۔ فرض کریں  آپ نے انویسٹمنٹ کے لیے لیے ایک کمپنی سلیکٹ کرنی ہے  اپنے ذہن میں اس کمپنی کا نام لے آ ئیں۔

بزنس کوالٹی

BUY WHAT YOU UNDERSTAND۔

وارن نے پوری زندگی کبھی ایسے بزنس میں حصہ نہیں ڈالا جسے وہ سمجھ نہیں سکتے چاہے اس کا نام کتنا بھی بڑا ہو اور اس کا منافع کتنا بھی زیادہ ہو۔ مزید براں اسٹاک کتنا بھی سستا مل رہا ہو، ان چیزوں کی اہمیت ہی نہیں ہوتی۔ اہمیت ہے تو بس اس چیز کی  کہ آپ جو کاروبار کرنے لگے ہو، اس کو پوری طرح سمجھتے ہو یعنی

∆ پروڈکٹس اور سروسز۔ ∆ آپریشنز۔ ∆ کمپٹیشن۔ ∆ کمپیٹیٹو ایڈوانٹیج۔ کسی بھی بزنس کے لانگ ٹرم پرافٹ میں یہ بہت  اہم اور ضروری  فیکٹرز ہیں۔ وارن ان میں سے کسی چیز میں کوی بھی کمپرومائز نہیں کرتا پھر وہ چاہے  برس ہا برس فارغ بیٹھا رے۔ اس کے لیے کمفرٹیبل ہے۔ اب اس کے ساتھ آپ اپنے ذہن میں دوہرائیں رول نمبر ون۔ کبھی پیسے ضائع نہ کریں   رول نمبر ٹو۔ کبھی پہلا اصول مت بھولیں۔  

تو آپ کو پورا فلسفہ، تھیوری اور تکنیک سمجھ میں آجائے گی۔ ان اصولوں کی مثال حصہ سوم میں دینا باقی رہ گئی تھی وہ ملاحظہ کریں۔ وارن بفٹ نے جب سے بزنس شروع کیا تھا اس نے دو ہزار پندرہ تک کسی بھی ٹیکنالوجی بیس کمپنی میں انویسٹ نہیں کیا تھا اسی لئے جب 2001 میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ میں  میگا، خوفناک اور بد ترین کریش ہوا, تو وارن کو اس سے دھیلا فرق نہیں پڑا تھا۔ اس کا کوئی نقصان تھا ہی نہیں۔ اور جولوگ پاگلوں کی طرح سن دو ہزار تک ٹیکنالوجی کے مہنگے اوردھڑا دھڑ سٹاک خرید رہے تھے, انہیں خود پتہ نہیں تھا کہ یہ بزنس کیسے کام کرتا ہے؟ اور یہ کمپنیاں پرافٹ کیسے کمائیں گے؟ تو آپ سمجھ چکے ہیں۔ اگر آپ گس(انداذہ) نہیں کر سکیں گے کہ یہ کمپنی دس بیس سال تک کیسے پیسے کمائے گی؟ تو پھر آپ حصہ ششم کے اس لفظ (PROBABLY SPECULATING .) کی زد میں آجائیں گے اور اس بربادی کی منظر کشی میں حصہ ششم میں کر چکا ہوں۔ اب میں دوسرے دو اصول لکھ رہا ہوں جو اس کے اپنے ہیں۔ وارن بفٹ نے یہ بینجمن گراہم سے مستعار نہیں لیے۔

Rule number 1.
TO ESTIMATE PROFIT FOR NEXT 10 TO 20 YEARS.

آپ نے اندازہ لگانے میں کوئی بھی کسر نہیں چھوڑنی کہ آنے والے دس سال میں اس کمپنی کی سیلز اور پرافٹ  کتنا بڑھے گا؟ اگر آپ اندازہ نہیں لگا پائے تو  اس صورت حال میں اس کمپنی کو چپ چاپ سے سوچنا بند کر دیں اور وہ ان کی طرح اس سے مکمل کنارہ کش ہو جائیں۔

Rule number 2.
THEN NO NEED TO WORRY ABOUT RISK.

اگر آپ نے یہ پروسس صحیح روح  ساتھ کر چکے ہیں، تو آپ رسک فری ہوگئے ہیں۔  میں آپ کو اس کی مثال بھی دوں گا لیکن میں پہلے اوپر والا پورا ماڈل بیان کر لو تاکہ تحریر کا ربط ، تسلسل اور روانی متاثر نہ ہونے پائے۔(مثال اگلے حصے میں ریزن ایبل پرائس میں دی گئی ہے)

مینجمنٹ کوالٹی

•ARE THEY CANDID?
•HOW DO THEY TALK?
•DO THEY ACCEPT MISTAKES?
•TRANSPARENCY EXISTS?

یہ اس لیے چیک کرنا ضروری ہے۔ کاروبار تو بہت زیادہ پرافٹ میں جا رہا ہے اگر مینجمنٹ آپ سے کچھ چھپا رہی ہے، وہ چیٹنگ فراڈ یا دھوکہ دہی کا مرتکب ہو رہی ہے یا کمپنی کسی بھی فراڈ کیس میں پکڑی جاتی ہے تو زیادہ امکان ہے آپ کا سارا پیسہ ڈوب سکتا ہے (ویسے پاکستان میں بچت ہو جاتی ہے لوگ اسے اللہ کا شکر کہہ کر پکارتے ہیں جو میرے پیدائشی مینوفیکچرنگ فالٹ کی وجہ سے مجھے اللہ کی نافرمانی سنتا ہے) اس لیے آپ کو کمپنی کی ٹاپ مینجمنٹ  جیسے سی ای او اور ڈرایکٹرز کا ریکارڈ چیک کرنا چاہیے، وارن بفٹ یہی کرتا ہے۔ جب وہ دیکھتا ہے ہے کہ کمپنی کی ٹاپ مینجمنٹ کا تھنکنگ پروسس کیا ہے؟ کیا وہ اپنے شیئر ہولڈر کے ساتھ ساری انفارمیشن شیئر کرتے ہیں؟  شیرز ہولڈر کے ساتھ ان کا کیمونیکشن سٹائل کیسا ہے؟ کیا مینجمنٹ اپنی خود کی غلطیاں مانتا ہے۔اگر اس نے کوئی نیا پروڈکٹ مارکیٹ میں لانچ کیا ہے اور وہ فلاپ ہوگیا ہے تو وہ مارکیٹ کو بلیم کرتا ہے! یا خود کو قصور وار سمجھتا ہے؟ وہ اسے بہت اہم سمجھتا ہے کیونکہ اگر مینجمنٹ اسے اپنی غلطی مانتی ہے تو وہ ضرور اسے ٹھیک کرے گی۔اور اگر کنٹرول ایکسپینس ہے تو اس کا مطلب ہے کہ سیکھ سیکھ کر آگے بڑھے گی۔ وارن کا خیال ہے کہ مینجمنٹ کو ٹرانسپیرنٹ ہونا چاہیے۔ اس اہم بات پر اس کا دومشہور قول بھی ہیں

  1. You can’t make a good deal with a bad person.

(اچھی  ڈیل برے بندے کے ساتھ نہیں ہوسکتی) دوسرا قول میرا پسندیدہ ترین ہے ہے لیکن سوشل میڈیا نے اس کے لفظ بدل بدل کر اس کا حشر نشر اور سوا ستیاناس کیا ہوا ہے ہے اصل قول یہ ہے۔

2. INTEGRITY HAS AN EXPENSIVE GIFT DON’T EXPECT IT FROM CHEAP PEOPLE.

(ایمانداری ایک قیمتی تحفہ ہے ہے اس کی توقع سستے لوگوں سے مت رکھیں) اگر مینجمنٹ بری اور ہےایمان ہے تو وہ ضرور آپ کو داو  لگائے گی یا چوری کر کے بھاگنے کی فکر میں بھی ہو سکتی ہے۔

فنانشل کوالٹی

√DEBIT\ LOANS.
√HIGH RETURN ON √EQUITY.
√R. O. E.
√HIGH PROFIT.
√PAY DIVIDENDS.

وارن بفٹ کا کا ماننا ہے کہ عقلمند آدمی قرضہ لےکر بزنس نہیں کرتا اس لیے ڈیبٹ فری کمپنی کو پسند کرتا ہے یا کم ازکم جس کا ڈبیٹ ایکویٹی سے کم ہو جب کمپنی ڈیبٹ فری ہوتی ہے ہے تو وہ عام طور پر وہ بند نہیں ہوتی۔  دوسری چیز دیکھتا ہے کہ کمپنی اپنے کسٹمر کے ہر  شیر پر کتنے پرسنٹ پرافٹ کما رہی ہے۔  کسی کمپنی کےپرافٹ کو دو طرح سے چیک کرتے ہیں اگر مسلسل پرافٹ کما رہی ہے تو اچھی کمپنی ہے ، اگر ہر سال منافع بڑھ رہا ہے تو اچھی مینجمنٹ ہے، جس کمپنی کا منافع ٹوئنٹی پرسنٹ یا اس سے زائد ہو واران اسی میں انویسٹ کرنا پسند کرتے ہے ریٹرن آن ایکیوٹی کا کونسپٹ ، ریٹرن آف ییلیڈ کی طرح پیچیدہ ہے۔ اس کی وضاحت میں آگے جا کر کروں گا، اس کے بغیر انویسٹمنٹ کو سمجھنا کا فی مشکل ہو جاتا ہے۔ ہائی پرافٹ مار جن ایک ایسا انڈیکیٹر ہے جس کی وجہ سے سب سے زیادہ انویسٹمنٹ ہوتی ہے۔ جس کا پرافٹ کم ہوگا وہ اس بات کا اشارہ ہوگا اس کمپنی کو مارکیٹ میں مقابلے(competition) کا سامنا ہے جس کی وجہ سے قیمت نیچے ہے۔ اور وہ ایسا پروڈکٹ بیچ رہی ہے جسے دوسری پروڈکٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہ کمپنی اس سے پیچھے نہیں ہٹ رہی ہے۔ چوتھے پوائنٹ کی بات کرتے ہیں کہ کمپنی کو اپنا پرافٹ ڈیویڈنٹ کے ذریعے ضرور ادا کرنا چاہیے۔ اگر کمپنی اس طرح نہیں کرتی تو پھر اس پرافٹ کو دوبارہ کمپنی میں ری انویسٹ ہوجانا چاہیے تاکہ کمپنی کا شیر پرائس بڑھ سکے۔ پرافٹ چونکے شیئر ہولڈر کا بنیادی حق ہے اور اگر وہ انہیں نہیں مل رہا تو کمپنی کو  کم از کم سٹاک پرائس کو بڑھا کر شیئرز ہولڈر کا فائدہ کر سکتی ہے لیکن اگر سٹاک کا ریٹ نہیں بڑھ رہا اس کا مطلب ہے کہ کمپنی اس پرافٹ کو درست طریقے سے استعمال نہیں کر رہی تو پھر اس پرافٹ کمانے کا کچھ مطلب باقی نہیں رہ جاتا جس کے ثمرات آپ تک پہنچ نہیں رہے ہیں۔ چوتھا اینالائنگ اور ریسرچ انڈیکیٹر انشاءاللہ اگلے حصے میں (جاری ہے۔۔۔۔۔۔)

(To be continued….۔۔۔

عرض مصنف….!!!! آپ کو حصہ ہفتم اور ہشتم میں اعداد و شمار کا گورکھ دھندا، ماڈرن بزنس کی ٹرمز، مارکیٹ کے پچیدہ فارمولے، اکاؤنٹس کے داؤ پیج، منی مینجمنٹ کی سیکرٹس، فنانشل فریڈم ، رییل فنانشل فریڈم کے انٹلکٹس و مس ڈیریکٹس فنانس، ری فنانس کی میٹرکس اور ری کلیکٹس کی زناٹے دار آواز، کانوں کے راستےگرجدار گونج کے ساتھ دل میں اترتی ہوئی سنائی دے گی۔ان دونوں حصوں کو قرطاس پر اس طرح بکھیرا گیا ہے ایک عام قاری یا نان فنانشل بیک گراونڈ والی شخصیت پڑھتے ہوئے مشکل، دقت اور دشوارگزار ی کا شکار نہ ہوں ، تحریر میں دلچسپی برقرار بھی رہے اور وہ بلا دشوار ، باآسانی اور پورے سکون سے سمجھ سکے اور ایمپلمنٹ کر سکے۔ ہمیشہ خوش رہیں۔سدا خوشیاں بکھیرتے رہیں حماد رضا

Leave a Reply

Your email address will not be published.