جب ہم وارن بفٹ کے بزنس کی بات کرتے ہیں اور ان کی بزنس سیکرٹ کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو اکثر ہمیں وہی گھسی پٹی باتیں سننے کو ملتی ہیں. زیادہ تر وہی پرانے، بوسیدہ اور دیمک زدہ کوٹس(اقوال) ہوتے ہیں, جن کو آدھے لوگ سمجھ نہیں پاتے۔ اور باقی جن کو تھوڑی بہت سمجھ لگتی ہے, وہ ان زنگ آلود عقائد کو امپلینٹ کرنے میں اپنے نظام میں  اتنی تبدیلیاں کرتے ہیں, کہ آدھا تیتر آدھا بٹیر کی عملی تفسیر بن کر بزنس مین کم بے بسی کا اشتہار زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ میں نے خود اور بارہا ان ایکسٹریم  ڈیفیکل پزلز کا  سامنا کیا, مگر یہ اکثر میرے دماغ کو سوالوں کے تیز نوکیلے شیشے کی طرح چبھن،کسک اور تکلیف کا احساس دلاتے تھے۔ میں ان کی کرچیاں چن کر دماغ کی انگلیوں کے پور، پور  کو زخمی، گھائل اور لہولہان کر لیتا تھا, نہ شیشے کی کرچیاں پوری چنی جاتی تھی نہ کبھی یہ فگار انگلیوں کی  پوریں رنگین ہونے سے بچتی تھی؟ پھر میرا بھی ان کے ساتھ ضد کا رشتہ شروع ہوا۔ تو میں نے ڈھونڈنا شروع کیا کہ مجھے کوئی سمجھائے؟ در در کی ٹھوکریں، مسلسل خاک چھا ننے، ٹکا کر بیش بہا وقت ضائع کرنے سے سمجھ میں آگیا! یہ کوئی نہیں سمجھاتا…!!! میں نے فہرست مرتب کرنی شروع کی۔  1.وارن بزنس کو کیسے چنتے ہیں؟ 2. وہ بزنس کو کیسے اینالائز  کرتے ہیں؟ 3. وہ کونسی، کیسے اور کتنی ریسرچ کرتے ہیں؟ 4. سٹاک کی انٹرنزک ویلیو کیسے نکالتے ہیں؟ 5. ان سٹاک کیلیے کتنا Pay کرتے ہیں؟ 6. ان کا فنانشل فریڈم سے کیا مراد ہے؟ 7.0 ریل فنانشل فریڈم پلین آخر کام کیسے کرتا ہے؟ یا یہ کوئی متھ ہے؟ 8. ایک عام اور چھوٹا بزنس مین کمپاؤنڈ ایفیکٹ سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتا ہے؟ 9۔ ہمارا سرکل آف کمپیپٹنس کونسا ہے؟ 10.0 ویلیو انویسٹنگ تھیوری کب , کیسے اور کس موقع پر شامل کی جاتی ہے؟ اب میں نے وارن بفٹ کو مسلسل پڑھنا شروع کیا۔ اور نوٹس بنانے شروع کیے۔ تیر، تکا، اندازہ پرسیپشن، ازمپشن لگا کر میں نے کچھ تھیوریز کو دنیا کے سب سے سمارٹ امیراورایکسپیرنس بزنس مین کی زندگی سے اہم نایاب اور منفرد فرد لیسن تو سیکھے,  لیکن جب کتابوں کی، میری  اور وارن تینوں کی بس ہوگئی تو اچانک میرے دماغ میں خیال کی برق چند لمحوں کے لیے کوندی اور ذہن کے نہاں خانوں کو خیرہ کر گئی۔ میں نے بھی وہی لیٹر ڈھونڈنا شروع کر دیے  جو یونیورسٹی میں پڑھائے جاتے ہیں اور وارن بفٹ شیئر ہولڈر کے ساتھ برکشائر ہیتھوے لیٹر ٹو شیر ہولڈر میں یہ سب کچھ ڈسکس کرتا ہے۔ میرے سامنے طلسم ہوشربا کا حیرت کدہ اپنی تمامترجوبنوں، جولائیوں، سندر پنوں رعنائیوں،دلکشیوں اور سحرانگیزوں  کے ساتھ جلوہ افروز ہو چکا تھا۔ چلتے ہیں پہلے وارن بفٹ کی تیز اونچی اور بلند اڑان کی سوچ کی طرف۔ پہلی سوچ ہے! تھنک لونگ ٹرم۔ Our favourite holding period is forever. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Buy only…… No selling۔ سٹاک مارکیٹ کا اصول یہی ہے کہ سستا لو اور مہنگا بیچو۔ وارن کہتے ہیں اسٹاک اس طرح خریدیں جیسے شادی کرتے ہیں شادی اور بزنس دونوں چل جائیں تو منافع ہی منافع ہوتا ہے۔ اور روز شادی مت کریں ایسے ہی روز شیرز مت خریدیں نہیں تو بروکر کو کمیشن دینا پڑے گا آپ کا ٹیکس بھی کٹے گا پھر بھی اگر آپ بیچنا اور خریدنا چاہتے ہیں تو کم از کم دس سال کے لئے خریدیں۔ آپ کو ان کی اس بات کی سرچ کریں گے  تو آپ کو پتہ چلے گا کہ فوربز کی 500  بندوں کی لسٹ میں کوئی بھی ایسا نہیں ملے گا, جس نے اپنی کمپنی کے شیئرزکا اس طرح ریورس  ٹرانزکشن سائیکل رن کیا ہو۔ آپ جیف بیکوز کو دیکھیں وہ فوربز میں پہلے نمبرپر ہے. وہ ایمازون میں ہی انویسٹڈ اور وہیں رہنا چاہتا ہے۔ ہم ایمازون سے چیزیں خریدتے ہیں لیکن کبھی ایمازون کو نہیں خریدتے۔ ہمسایہ ملک  انڈیا  میں مکیش امبانی سب سے امیر ترین بندہ ہے اور آج کی فوربس لسٹ کے مطابق اس کا دسواں نمبر ہے۔ اس کی دولت کا  سب سے بڑا حصہ ریلائنس کے شیرز میں ہے  جسے وہ بیچتا نہیں ہے۔ پاکستان کا امیر ترین میاں منشا نشاط اور ایم سی بی کے حصص میں ہی انویسٹڈ ہے۔ اس سے پہلے مے(May) بینک ملیشیا کے  شیئرز اس کے پاس تھے۔ یہ سارے لوگ  ڈیویڈنڈ ہی کنزیوم کرتے ہیں۔ وارن بفٹ کہتا ہے۔ Don’t Buy A Stock , Buy A Business. یعنی آپ انویسٹمنٹ ہی وہاں کریں جہاں بزنس مستحکم ہو۔ وارن کہتا ہے کہ دنیا میں لوگ کاروبار کرنے سے ہی امیر ہوتے ہیں جاب کرنے سے نہیں کیونکہ سیلری سے لوگ زیادہ تر خرچہ ہی نکال پاتے ہیں تو جو لوگ بزنس سٹارٹ نہیں کر سکتے! وہ کیا کر سکتے ہیں؟ وہ دوسروں کے بزنس میں پارٹنر بن سکتے ہیں۔ وارن بفٹ کا نچوڑ یہ ہے کہ اسٹاک ٹریڈنگ مائنڈ سیٹ کو بزنس انویسٹ مائنڈ سیٹ میں بدلنا ہے سننے میں تھوڑا عجیب لگتا ہے  لیکن  میرا تجربہ ہے کہ ٹریڈنگ کرکے آپ اتنا امیر نہیں بن سکتے جتنا انویسٹ کر کے امیر بن سکتے ہیں  آپ چیک کر سکتے ہیں کہ کتنے لوگوں نے انویسٹ کر کے دولت کمائی ہے اور کتنے نے ٹریڈنگ کرکے. وارن بفٹ نے بھی پہلے دور میں ایک دفعہ جلدی  سگار بٹ کے شیرز  بیچ دیے تھے (یہ کیس سٹڈی پھر سہی)  یوں  یہ انہیں کافی اکسپینسو  پڑا تھا۔ بعد میں میں یہ ساری خوشحالی ہولڈ کر کے اور کمپاؤنڈ ایفکٹ کے ذریعے آئی فنانشنل فریڈم حاصل کرنے کے متعلق وارن بفٹ کہتا ہے Eat Your Income Not Your Capital… ہماری فوک وزڈم بھی اس طرف اشارہ کرتی ہے  راس مک گئی۔۔۔ تے تریک سک گئی۔۔۔۔ آپ اگر کمپاونڈ تھیوری سمجھ چکے ہیں تو پچھلی تحریروں سے آپ کو پتہ چل چکا ہوگا  کیسے ڈیوڈنڈ کمپاؤنڈ تھیوری سے مل کر فکسڈ ڈپازٹ سے سے آگے نکل جاتے ہیں۔  (اگر کوئی ابہام باقی ہے تو میں نیچے بھی اس کی چھوٹی سی تشریح کروں گا۔فی الحال ربط کو نہیں توڑتے.  پارٹ 8 میں مکمل تھیوری لکھ دی ہے) جیسے کوکا کولا کے موجودہ  سی ای او جیمز کونیسی (James Quincey) 2017) میں ایک کروڑ ڈالر سالانہ سیلری لے رہے تھے۔جبکہ وارن بفٹ  کوکاکولا کے ڈیوڈنڈ سے  59 کروڑ ڈالر کا سالانہ ڈیوڈنڈ ملا جبکہ انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ جب  سی ای او جیمزز کوینسی نوکری چھوڑے گا تو اسے کچھ نہیں ملے گا۔ لیکن وارن بفٹ کی نسلوں کو بھی کروڑ ڈالر گھر آتے رہے گے۔  اسے کہتے ہیں۔ *Real Financial Freedom. اس رئیل فنانشل فریڈم  کا اصول بھی لانگ ٹرم سوچ میں ہی پنہاں ہے*  جس کمپنی میں پروٹیکشن ہوگی وہ زیادہ ڈیوڈنڈ پرافٹ دیتی ہے۔ *اب جو میرا ذاتی خیال ہے اس میں ہماری پہلی اپروچ میں کمزور اور ناکامیاب لوگ زیادہ دور تک اور دیر تک سوچ نہیں پاتے مزید برا ں وہ شارٹ ٹائمپرڈ  بھی ہوتے ہیں جبکہ امیر اس کے برعکس زیادہ دور، لمبے دورانیہ اور ٹھنڈے دماغ سے سوچتے ہیں۔ دوسری اپروچ  بھی ذرا ملاحظہ کریں۔ روپیہ، پیسہ مال و دولت شارٹ ٹرم میں ہمیشہ تھوڑا ہوتا ہے  حتیٰ کہ آپ کے  کی لاٹری نکل آئے۔ ابا انتقال کر جائے،  کسی چاچے مامے کی طرف سے منتقل ہو جائے یا آپ کسی کو دھوکا دے کر حاصل کرلیں۔ شاہانہ دولت ، بڑی  کامیابی  اور اپرچونیٹی ہمیشہ لانگ ٹرم سے ملتی ہے،جیسے جاب ،کمپنی یا بزنس وغیرہ ورنہ آج بھی ہم جنگل میں میں ہوتے اور شکار کر رہے ہوتے اپنے سروائیول کے لیے۔   تیسری اپروچ اس سے بھی خطرناک  ہے وہ بھی ذرا ملاحظہ کریں۔ اس واہیات اپروچ کے ہاتھوں میں نے لوگوں کو ہمیشہ روتے، سینہ کوبی، مقدر کو کوستے ، نقصان اٹھاتے اور مکمل برباد ہوتے دیکھا ہے۔ اس میں لوگ ڈے ٹریڈرز، سکیلپرز، مارکیٹ بروکرز، بیڈ فنانشل ایڈوائزر اور ٹرم تھنکرز  کے پاس پھنستے ہیں۔ یہ خود غرضی کہ پہاڑ پر چڑھ کر صرف اپنا سوچتے ہیں  اور دوسرے کو دھکا دینے میں پل بھر  کے لیے بھی نہیں ہچکچاتے۔ انہیں گریڈی کہا جاتا ہے لیکن میں ان کے پاس جانے والوں کو گریڈی کہتا ہوں۔ آپ ہمیشہ گڈ ایڈوائزرز،کریڈبیل کوچیزاورلونگ ٹرم انوسٹر ڈھونڈیں۔ یہ ہمیشہ ایک دوسرے کو امیر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔اس لئے خود بھی امیر بنتے ہیں*  لوگ سالوں سے وارن کے ساتھ وابستہ ہیں اور اس کے شیئر فروخت کرنے کا سوچتے بھی نہیں بالکل اسی طرح جیسے وہ اپنا مکان یا دوکان خریدتے ہیں وارن بفٹ نے ہر کسی ساتھ ایسا اچھا سلوک کیا ہے جیسا اس نے اپنے رشتے داروں کے ساتھ کیا تھا۔ اور لوگ بھی اسے مذہب سمجھتے ہیں جسے وہ بدلنا نہیں چاہتے۔ (جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔) (To be continued….

Leave a Reply

Your email address will not be published.