وارن بفٹ کے پاس 21 سوٹ ہیں۔ ہر روز ان میں سے ایک پہن لیتے ہیں۔ ان کے پاس 21 سوٹ کیسے ہو گئے؟ اس کی کہانی بڑی دلچسپ ہے یہ ایک دفعہ چین گئے تھے۔ وہاں ایک لوکل ٹیلر تھی. میڈم لی۔کسان کی بیٹی تھی.اس کے پاس ایک سلائی مشین تھی۔یہ وارن بفٹ سے بے حد انسپائرتھی. جس ہوٹل میں وارن رکا تھا اس نے وہاں تک رسائی حاصل کرلی۔ اس کے دو بندے جوان کے کمرے میں آئے اور اس کا ماپ لینے لگے۔ جب تک کو وارن کو سمجھ آئی۔ انہوں نے کہا کہ آپ رنگ پسند کریں۔ وارن نے رنگ پسند کر لیا۔ اگلے دن ایک خوبصورت سوٹ تیار ہو کر اس کے پاس پہنچ چکا تھا سوٹ کے ساتھ ہینڈ میڈ ٹائی اور سفید شرٹ بھی تھی۔وارن نے پیسے پوچھے۔ انہوں نے بتایا یہ فری ہے۔ وارن کو سوٹ بہت پسند آیا۔ اس نے انہیں دو سوٹوں کا مزید آرڈر دے دیا لیکن کہا کہ اب وہ پیمنٹ کے بغیر سوٹ قبول نہیں کرے گا۔ اگلے تین دن بعد بعد اسے دو کی بجائے بیس سوٹ موصول ہوئے. میڈم لی خود لے کر آئی. اس نے بتایا کہ اس نے یہ سوٹ اپنے ہیرو کے لئے تیار کئے ہیں . وہ ساری زندگی ان سے متاثر رہی ہے. اس لیے قیمت قبول نہیں کرے گی۔ وارن کو اس کے اصرار کے آگے ہار ماننا پڑی۔ وہ آ ج بھی یہی سوٹ بدل بدل کر پہنتا ہے۔ بارک اوباما نے جب انہیں تغمہ برائے آزادی دیا تو لی کا دیا ہوا بلیک سوٹ پہنا ہوا تھا۔ جون 2006 میں میں سلور رنگ کا سوٹ اور سفید شرٹ پہنے (لی کا دیا ہوا پہلا سوٹ) یہ میگا ارب پتی آڈیٹوریم میں جلوہ افروز ہوا اور اپنی دولت کا بیشتر حصہ بل گیٹس اینڈ میلنڈا فاؤنڈیشن کو دے دیا۔ اتنے بڑے ڈونیشن کے بعد میں میلنڈا کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ بل نے کہا کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا گفٹ ہے جو کسی نے اس کی آرگنائزیشن کو دیا ہے۔ لی بعد میں وارن کی وجہ سے بہت مشہور ہویں۔ امریکہ کی ٹاپ ڈیزائنر بنیں۔ بل گیٹس، میگا بلینئر اور ہائی ایلیٹ کلاس آج اسی سے سوٹ سلواتیں ہیں میڈم لی اب کرورڑ پتی ہو چکی ہیں۔ چلتے ہیں کہ برکشائر کے بعد کیا ہوا۔ برکشائر اب فورچیون کے فائیو ہنڈریڈ میں ٹاپ فائیو میں ہے ۔ یہ ایک ہولڈنگ کمپنی ہے جو بڑی تعداد میں علیحدہ کاروباری اداروں کی مالک ہے۔ یہ مکمل طور پر آزادنہ کام کرتی ہے۔ وارن نے ان کو ایک ہی ہدایت دی ہوئی ہے، آپ نے ایسا برتاؤ کرنا ہے ، جس سے برکشائر ہیتھوے کی ساکھ کو کوئی نقصان نہ پہنچے اور وہ بھی آزادانہ کام کرتے رہیں۔ وارن بفٹ کا ایک پارٹنر بھی ہے ہے جس کا نام چارلی تھامس منگر ہے۔ یہ اس سے زیادہ طویل العمر ہے۔ وارن پہلے سستے سٹاک خریدتا تھا، اسے کوئی پرواہ نہیں تھی کہ گھٹیا کمپنی ہے یا تھرڈ کلاس۔ مینجمنٹ ہے۔ اسے پتہ تھا سستی خریداری کی وجہ سے پیسہ آئے گا ہی آئے گا۔ چارلی نے اسے ایک شاندار تکنیک سے ملوایا وارن کے بقول چارلی نے اسے زندگی میں سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ اس نے شاندر قیمت پر شاندار کمپنیاں کی بجائے مناسب قیمتوں پر شاندار کمپنیوں کو خریدا۔ یہ چارلی کو اپنے بزنس پارٹنر کی بجائے ذہنی پارٹنر کہتا ہے۔ چارلی کے خیالات بہت ہی زبردست ہیں۔ یہ کہتا ہے! اگر آپ کے پاس کسی اہم آئیڈیا کو کنڈینس کرنے کے لئے چند الفاظ نہیں ہیں۔ آپ مشکل، پچیدہ اور گنجلک تھیوری کو چند لفظوں میں بیان نہیں کر سکتے اور آپ کو اکنامک منظر نامے میں دلچسپی نہیں ہے تو آپ ذہنی طور پر مردہ ہو چکے ہیں۔ چارلی کے پاس تدبیروں کا خزانہ ہر وقت وافر اسٹاک کی شکل میں موجود ہوتا ہے۔ وہ ایک اثاثہ ہی نہیں، ایک نام خریدتا تھا ، ایک برینڈ پر ہاتھ ڈالتا تھا ، ایک حقیقی فرنچائز کی طرف لپکتا ہے، وہ برکشائر ہیتھوے کی ہر بات میں جواب دے ہے۔ اسے سب سے زیادہ ذمہ دار شخص کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ چارلی پر بعد میں ایک کتاب بھی لکھی گئی۔ What I leared from Charlie (Ben Franklin) یہی وارن کا سب سے بڑا سیکرٹ تھا۔ اس نے برکشائر کو اسی انداز میں آگے بڑھانے کے قابل بنایا ورنہ دوسری صورت میں یہ ناممکن ہوتا۔ وارن نے بزنس کی اصطلاح میں ایک نئی ٹرم متعارف کرائی جسے بزنس موٹ یا اکنامک موٹ (Business /Economic Moat) کہتے ہیں۔ پاکستان میں لوگ اسے بزنس سیکرٹ یا ٹریڈ سیکرٹ کہہ کر پکارتے ہیں۔ اکنامک موٹ کیا ہوتا ہے آئیے آپ کو اس کی مثال دیتا ہوں۔ جس طرح پرانے دور میں بادشاہ اپنے قلعے کے اردگرد گہری کھائی کھود لیتے تھے تاکہ حملہ آور محل پر قبضہ کرنے سے پہلے کھائیوں میں گر کر فنا ہو جائیں۔ کچھ لوگ ان کھائیوں میں میں پانی بھی بھر لیتے تھے۔ اور ہندوستان کے بادشاہ تو چار قدم آگے تھے، وہ ان کھائیوں میں لاکھوں زہریلے سانپ چھوڑ دیا کرتے تھے۔ تاکہ حملہ اور پیش قدمی کا سوچ بھی نہیں سکے۔ اسی طرح بڑی کمپنیاں اپنے گرد اس طرح کی کھائیاں رکھتی ہیں۔ کہ کوئی ان کا بزنس ماڈل کاپی نہ کر پائے۔ کوئی ان کے کسٹمر چھین کر نہ لے جائے۔اگر وہ اسی طرح کا بزنس کرتا ہے تو وہ سیدھا کھائی کی شکل میں مختلف قسم کی مصیبتوں آزمائشوں مسلوں کے اندر گرفتار ہو کر کر اپنے فیصلے پر پچھتائے۔ دوسرا اکنامک موٹ یہ ہوتا ہے کہ کمپنی کی اصل طاقت کہاں ہے۔ وارن اسکی مثال دیتے ہیں ساحل سمندر پر پر ان کی سی کینڈیز نامی کمپنی ہے۔ یہ باکس چاکلیٹ بیچتی ہے ۔ ان کے کلچر کے مطابق پہلی ڈیٹ پر اس طرح کا شاندار تحفہ لڑکی کا دل آسانی سے جیتنے میں بہت مدد کرتا ہے۔ اگر ہم کل ہی باکس کی قیمت بڑھا دیں تو آپ پھر بھی وہی چاکلیٹ کا ڈبہ خریدیں گے۔ اور یہ آپ کی کامیابی ہوگی بیوقوفی نہیں بنے گی۔ اس کا کی پوائنٹ، طاقت ،راز اور سیکرٹ رسپونس ہے ۔ اسی کمپنی کے اکنامک موٹ کو دوسرے طریقے سے سمجھا تے ہیں۔ کہ ہم نے قیمت زیادہ کردی دی آپ نے ویلنٹائن ڈے ے پر گھر آنا ہے اور آپ کو باکس چاہیے آئے آپ گھر جا کر یہ نہیں کہہ سکتے کہ قیمت زیادہ تھی اس لیے نہیں خریدا کیونکہ پرائس کچھ ڈگری تک ان مٹیریل ہے اور یہ غیر اہم ہوتی ہے ۔ دوسری مثال واشنگٹن پوسٹ کی دیتے ہیں کہ میں نے جب اسے خریدا تھا تو اس کا اکنامک موٹ اس کی مناپلی تھی۔ یہ دوسرے اخباروں کو قدم جمانے نہیں دیتی تھی۔اور اس کا نیٹ ورک اتنا وسیع تھا جو دوسرے اخبارات کو ایک حد سے زیادہ بکنے نہیں دیتا تھا۔ وارن کہتا ہے اگر آپ آپ آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو آپ کو بھی اپنے نے معاشی قلعے کو ڈھونڈنا ہوگا۔ اور اگر آپ نے ڈھونڈ لیا تو لوگ آپ کو اس قلعے سے دور لے جانا چاہیں گے۔ اب آپ کے پاس اکنامک موٹ ہے جو آپ کو بچائے گا۔ اور کمپنی کے اندر سے آپ کا نظر نہ آنے والا سسٹم بھی بھی اس کھائی کے ارد گرد کھڑے حملہ آوروں پر اپنے نہ نظر آنے والے تیر پھینکے گا یوں اب محفوظ رہتے ہوئے آگے بڑھ پائیں گے۔ وارن نے سالمن برادرز میں بھی انویسٹمنٹ کی تھی۔ ان کی پالیسیوں سے چارلی سخت نالاں تھا۔ وہ و ان کو مجبور کرتا رہا کہ وہ یہ سٹاک بیچ دے۔ پندرہ اگست کو وارن بفٹ کو سالمن برادر کے آفس سے دو سینئر ایگزیکٹیو کی کال آئی۔ سر ہم پرابلم میں ہے، اسی رات ٹی وی پر CNN نے بہت بڑے مالیاتی سکینڈل کی سٹوری بریک کر دی۔ سالمن برادر کی تمام بڑی بڑی سکیورٹی کمپنیز جنہوں نے حد زیادہ تجاوز کرتے ہوئے ٹریژری بانڈ خرید لیے تھے۔ وہ زیر تفتیش آ چکی تھی اس ناجائز تجارت کا سلومن برادرز نے اعتراف کر لیا تھا۔ اس اعتراف نے مالیاتی اداروں اور مانیٹرنگ یونٹس کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان سخت کوڑے کی شکل میں ان کی پیٹھ پر برسایا جس سے وہ تلملا اٹھے تھے۔ ایک ہی بندے کے نام پر بار بار خریداری ہوئی تھی اور وہ بندہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا سالومن برادر کے اعترافی بیان نے وزارت خزانہ، آئی سی سی ، فیڈرل ریزرو اور محکمہ انصاف میں بھونچال کی کیفیت طاری کردی۔ ایک سوال اس سے بھی بڑا کھڑا ہوگیا؟ فرم کی قسمت سے زیادہ اہم اس وقت عوام کا اعتماد تھا ،جو ایک لمحے چکناچور ہو سکتا تھا اور دنیا بھر میں میں امریکی ساکھ بھی داؤ پر لگ چکی تھی۔ جو کسی بھی وقت ذلت رسوائی اور جگ ہنسائی میں تبدیل ہو سکتی تھی۔ کمپنی 150 ارب ڈالر کی مقروض تھی، کسی بھی دوسری نجی کمپنی کے مقابلے میں یہ بہت زیادہ رقم واجب الادا تھی۔ وارن فیڈرل ریزرو کے پریذیڈنٹ سے ملا۔ اتنی زیادہ واجب الادا رقم کے لئے اس سے کچھ مہلت مانگی اور وارن کہتا ہے کہ میں سمجھا کہ وہ خوش ہوگا لیکن اس نے کہا کہ آپ برے نتائج کے لیے تیار رہیں۔ اور اگلے دن محکمہ خزانہ نے سالمن برادر پر کڑی فنانشل گے پابندیاں عائد کر دیں۔ سالمن برادر اب خریداری نہیں کر سکتی تھی جس سے کانپتی لرزتی ہوئی وال سٹریٹ سیدھی منہ کے بل زمین پر آ گری۔ وارن کہتا ہے کہ ساکھ کمانے میں 20 سال لگتے ہیں اور یہ پانچ منٹ میں واپس چلی جاتی ہے۔ لوگوں کا اعتماد اٹھ گیا تھا اور یہ میری زندگی کا ایک بہت بڑا موڑ تھا۔ اور اس خاص موڑ پر اسے لگ رہا تھا کہ اس کی ساکھ بھی بھی تیز آندھیوں کی زد میں آ چکی ہے ، بھڑکتی آگ کےتیزو تند شعلے اس کی شہرت کے دامن کو بھی خاکستر کر دیں گے ۔۔24 گھنٹے تک سوچتا رہا کہ آگے بڑھے یا جھک جائے۔ سلومن برادرز دیوالیہ اور برباد ہو چکے تھے وارن دلیری سے آگے بڑھا اور اس نے ذمہ داری قبول کرلی۔اس نے عبوری چیئرمین شپ کا عہدہ قبول کیا۔ اور اس کے بعد بم جو پریس کانفرنس ہوئی وہ دنیا کی تاریخ میں بذات خود ایک تاریخ ہے۔ اس نے کہا آج کا دن اور وقت نوٹ کر لیں۔ میں نے اپنا قدم اس کمپنی میں رکھ دیا ہے۔ اور میں کمپنی کی ہر چیز نہ صرف ٹھیک کروں گا۔ یہ پہلے سے زیادہ اجلی کلیئر اورشفاف بھی ہوگی۔میں میں ملک کے اداروں کو بھی یقین دلانا چاہتا ہوں، جو کچھ ہوا وہ بہت خطرناک احمقانہ اور پاگل پن ہے،انہیں ناراض ہونے کا پورا حق ہے لیکن یہ ماضی ہے۔ اور اگر پابندیاں نہ اٹھائیں تو آٹھ ہزار افراد کا روزگار اس سے وابستہ ہے، وہ روزگار ہو جائیں گے۔یاد رکھیں یہ خوفناک،بھیانک اور ناکام منظر اپنے ساتھ وال سٹریٹ کو بہا کر لے جائے گا۔ کانفرنس کے بعد اس نے ٹریزری کے ہیڈ نک بریڈی کو فون کیا۔ وارن کی آواز پھٹ گئی تھی اور گلا رندھ گیا تھا۔ وہ جتنا اس کو تباہی کا یقین دلاتا تھا۔ نک بریڈی اس کےخیالات کو غلط اور باطل قرار دے کر رد کر رہا تھا٫ سکینڈل نے ان کی عقلوں کو مہر بلب کر دیا تھا۔ وہ صرف ایک لفظ بول سکتے تھے اور وہ تھا فراڈ۔…. فراڈ لیکن اس کی پریس کانفرنس نے نہ صرف کہانی کا رخ موڑا بلکہ تاریخ کا دھارا بھی الٹ کر وارن کی طرف بہنے لگا. حکومت اور محکمہ خزانہ دونوں مجبور ہوگئے انہوں نے سالمن پر سے فنانشل پابندی اٹھا لی تھی۔ نک بریڈی بھی میدان میں آکر وارن کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ چارلی کہتا ہے کہ اس سے آپ کو اندازہ ہو جانا چاہیے کہ اچھی ساکھ زندگی اور دنیا دونوں میں کس طرح نہ صرف کام آتی بلکہ آپ کا سہارا بنتی ہے ، مددگار ہوتی ہے۔ بعد میں جائزہ کمیٹی میں وارن نے اپنی شاہکار تقریر میں کہا! میں نے ہر کمپنی میں کام کرنے والے افسر کو کہا ہے کہ وہ اپنا محاسبہ خود کرے گا اور تعمیل افسر(compliance officer) بھی خود ہوگا۔ ان کو تمام قوانین اور میرا ایس۔ او۔ پی بھی ماننا ہو گا, یہ روز اخبار کا پہلا صفحہ اپنے بیوی بچوں اور دوستوں کو دکھاہیں گے٫ وہ آج کیا کرکے آئے ہیں؟ اگر وہ اس ٹیسٹ پر پورے اترتے ہیں تو انہیں میرے دوسرے پیغام سے ڈرنے کوئی ضرورت نہیں اگر کام کرتے ہوئے پیسوں کا نقصان ہو گیا تو میرے اور فرم کے لیے ایک چھوٹا سا نقصان ہوگا۔ میں ہنس کر برداشت کرلوں گا لیکن آپ کی وجہ سے اگر ساکھ کے چھوٹے سے حصے کو بھی نقصان پہنچا تو پھر مجھے دنیا کی کوئی طاقت بےرحم بننے سے نہیں روک سکے گی۔ وارن نے سچ کر کے دکھایا۔ آج سولمن برادر انویسٹمنٹ بینکنگ کی دنیا میں امریکہ کی پانچویں بڑی کمپنی ہے۔ (جاری ہے…) )To be continued…) پس نو شت:- پانچواں حصہ ایک نشست میں لکھا گیا ہے روانی تسلسل اور بہاؤ نے اسے کافی طویل کیا ہے میں نے بھی کہانی کا ربط طوالت کے ڈر سے مختصر اور ٹوٹنے نہیں دیا۔ اعدادوشمار ،میتھ اور اکاؤنٹس ایک غیر دلچسپ ،بور اور یکسانیت کا شکار موضوع ہے۔ میں جو اس میں رنگ بھر سکتا تھا اپنے الفاظ ، بیان اور انداز سے میں نے ہر ممکن کوشش کی ہے ۔ پتہ نہیں میں اس میں کامیاب ہوا ہوں یا نہیں؟ اگر جواب نہیں ہے تو اسے آپ میری بے ہنری بے علمی سمجھ لیں یا پھر مجبوری۔ پر جن کو اوپر والی چیزوں میں دلچسپی ہے ان کے لیے یہ نہ صرف خاصے کی چیز ہے اور بزنس کا ایک چھوٹا سا ریسرچ پیپر بھی ہے، زبان کا لٹکا اور جھٹکا کا بھی اس تاثر کو دوچند کرے گا۔ مزید پس نوشت :- اگر آپ کو ٹریڈ سیکرٹ ، بزنس سیکرٹ میں دلچسپی ہے اور آپ اسے ہنستے مسکراتے ، قہقہ لگاتے اور رنگین دنیا میں گم ہو ہو کر سیکھنا چاہتے ہیں تو اس موضوع پر ایک انڈین پنجابی فلم لو شو تے چکن کھرانا ہے ۔ آپ بھی اسے دیکھ کر قلم کار، ہدایتکار ،پیشکار ،اداکار اور خاکسار کو داد دیے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ ہمیشہ کامیاب رہیں۔ کامران رہیں۔ حماد رضا عبداللہ گارڈن۔ فیصل آبا

Leave a Reply

Your email address will not be published.