بل گیٹس کے سیٹلائٹ موبائل میں دو سپیڈ ڈائل نمبر ہیں۔ نمبر1 ملینڈا گیٹس (طلاق سے پہلے کی صورتحال). نمبر 2. وارن بفٹ۔ بل گیٹس کہتا ہے وارن بفٹ کے پاس 30 سال کے نوجوان لڑکے جیسی تیزی، تندی اور شارپنس ہے۔دس سال کی عمر کے بچے کی معصوم مہربان اور بھرپور مسکراہٹ اور چھ سال کی عمر کے بچے کی کھانے پینے کی عادتیں ہیں۔  وارن بفٹ نے6 سالہ بچے جیسی کھانے کی عادت کیوں اپنائی؟ وہ کہتا ہے! ریسرچ کے مطابق  چھ سال کے بچے کی عمر کا ڈیتھ ریٹ سب سے کم ہوتا ہے۔ تو پھر آپ اسی طرح کھانا چاہیے مگر اسی کی طرح مزہ کرتے ہوئے بھی کھانا چاہیے۔ آپ زندگی میں کبھی بھی دقت نہیں ہوگی اور آپ جسمانی طور پر نہیں بلکہ ذہنی طور پر فٹ رہیں گے۔ اور آپ کو تیس منٹ کا ورک آؤٹ ضرور کرنا چاہیے۔انہوں نے اپنے لئے ایک فارمولا بنایا ہوا ہے. اسے ایم سی ڈی کہتے ہیں۔

1. M…..Must-Do.
2. C……Can  Do.
3. D……Don’t Do.

یہ صبح آفس آکر سب سے پہلے ایک پیج لیتے ہیں اور اس پر سارے کام لکھ لیتے ہیں پھر ان کو اے بی سی تین کیٹیگری میں تقسیم کر دیتے ہیں۔  مسٹ ڈو میں وہ کام رکھے ہوئے ہیں جو ہمیشہ کرتے ہیں۔ جیسے گزشتہ چند سالوں سے سے 5 کمروں کے گھر میں رہے ہیں. اسی طرح ان کے دفتر بروک شائر ہیتھ وے کا فاصلہ ان کے گھر سے پانچ منٹ کی ڈرائیو پر ہے اور راستے میکڈونلڈز پڑتا ہے۔ ان کی بیوی روز چینی کے پیالے مییں 2.65, 3 یا 3.15 ڈالر رکھ دیتی ہیں. یہ دفتر سے پہلے اس کے ڈرائیوے سے اپنے پیسوں کے مطابق ایک منٹ  کے اندر ڈیل خریدتے ہیں اور آفس پہنچ کر گزشتہ 54 سال سے ناشتہ کررہے ہیں. کین ڈو میں زیادہ تر کام اپنی ٹیم کو منتقل کرتے ہیں اور ڈونٹ ڈو کا آپ پہلے ہی جانتے ہیں کہ بہت سے کاموں کی طرح  سے یہ کسی سے نہ ملتے اسی طرح فون رسیو بھی نہیں کرتے ہیں یہ بل گیٹس کو بھی ملنا نہیں چاہتے تھے اور طرفہ تماشہ یہ کہ بل گیٹس بھی ان کو ملنا نہیں چاہتا تھا۔ لیکن بعد میں ان کی گہری دوستی ہوئی اس کی کہانی اس طرح ہے۔ بل گیٹس کی والدہ میری گیٹس اور والد ولیم ہنری گیٹس(انہیں سینئر بل گیٹس بھی کہا جاتا ہے) چاہتے تھے  کہ بل وارن سے ملے اس معاملے میں بل گیٹس کا موقف تھا  کہ وہ اعداد و شمار کے گورکھ دھندے کی دنیا کا بندہ ہے , وہ صرف فنانشلز، پرافٹ لاس اور مینجمنٹ کو ڈسکس کرے گا۔اور مجھے اس میں دلچسپی نہیں ہے، ہم دونوں ہی  علیحدہ، علیحدہ دنیاوں کے باسی ہیں۔ اسی طرح وارن بفٹ کا دوست وارن کو بل گیٹس سے ملنے کے لیے قائل کرتا تھا لیکن وارن اپنے دوست کو سمجھاتا  تھا ،بل  آئی ٹی کی دنیا کی مخلوق ہے اور اس کی نظر میں بالکل فارغ بندہ ہے۔ وہ اس سے کیا بات کرے گا؟ و ارن کے دوست کا میری گیٹس کے ساتھ بھی روابط تھے۔ دونوں کے علم میں جب یہ صورتحال آ ئی  تو پھر ان دونوں نے اس کا ایک خوبصورت اور دلچسپ حل نکالا میری نے اپنے گھر میں ایک ایونٹ رکھا اور مہمانوں میں  وارن بفٹ کو مدعو کر لیا۔ یوں وارن کا دوست ا سے لے کر کر ان کے گھر پہنچا اور بل گیٹس میزبان تھا ایونٹ کے بعد ان کی 30 منٹ ملاقات کا ٹائم تھا وارن نے بل سے کہا۔ اگر میں تم کو نئی کمپنی بنا کر دوں اور آج سے تمہاری مائیکروسافٹ بالکل ختم! تو بتاؤ پھر تم کہاں سے اور کیسے سٹارٹ اپ کرو گے؟ اور اگر تمہیں میں کوئی اور کمپنی کسی اور ملک میں بنا کر دوں تو پھر کیسے آپریٹ کرو گے؟ بل کی اس کے سوال سن کر حیرت کی انتہا نہ رہی اس سے کسی جواب کا پتا نہیں تھا! پھر دونوں نے ایک دوسرے سے ان کے فیورٹ  آ تھرز ،کتابیں مشاغل،  آرٹیکلز پوچھے؟ دونوں کو ہی ملاقات میں بہت ذہنی راحت، آسودگی اور مطابقت کا احساس ہوا۔ گفتگو کا سلسلہ طویل اور دراز ہوتا چلا گیا۔ 30 منٹ کی یہ پہلی ملاقات دس گھنٹے کی لمبی بیٹھک میں تبدیل ہوئی۔ بعد میں یہ تاش کے بھی دوست بنے ، شاپنگ بھی مل کر کرنے لگے اور ریسٹورنٹ میں بھی اکٹھے پائے جاتے ہیں۔ اس طرح بل گیٹس کے فون میں یہ نمبر سپیڈ ڈائل بن گیا۔ اور اس کے بعد سے کوئی دن ایسا نہیں گزرا جس دن انہوں نے سیٹلائٹ فون پر بات نہ کی ہو۔ بل گیٹس کہتے ہیں کہ وارن نے میری دوچیزوں میں بہت مدد کی ہے

  1. Lifetime Learning
  2. Life time laughing

بل گیٹس کہتا ہے کہ میں زندگی میں کبھی اتنا سیکھ نہیں سکتا تھا اور نہ ہی اتنا خوش ہو سکتا تھا۔ وارن نے مجھے زندگی جینا سکھا دیا۔ بل گیٹس کا مشہور قول حقیقت میں وارن بفٹ کو ہی خراج تحسین پیش کرتا ہے Pickup your associate whose behaviour better than you & then will give you a drift in your direction of life.  (Bill Gates) وارن کہتا ہے ہے کہ آپ  صرف مجھے اپنا ہیرو بتا دیں مجھے آج ہی پتہ چل جائے گا آپ کیسا بننا چاہتے ہیں؟ چلتے ہیں جہاں سے ہم نے داستان کو چھوڑا تھا وارن بفٹ استاد سے علیحدہ ہونے کے بعد نیویارک سے 1956 کے اوائل میں واپس اوماہا آگئے۔ خاندان کےافراد ساتھ مل کر پہلی شراکت کا آغاز ایک 105100 ڈالرسے کیا, اس میں صرف سو ڈالر وارن کے  تھے، باقی رشتہ داروں نے ڈالے تھے۔ وال سٹریٹ میں بینجمن گراہم کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے  اب وہ ہر کمپنی کو بہتر جانتا تھا .وہ کیپٹلائزیشن کو جانتا تھا۔ وہ جانتا تھا، اس میں پرافٹ کتنا ہے؟ بقایا  شیر کتنے ہیں؟ یہ ایک ناقابل یقین بات تھی۔ اس کے بعد اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ انیس سو باسٹھ میں اس نے سات ملین ڈالر کی خطیر رقم انویسٹ کی۔ اس سے بھی اس نے خطیر منافع حاصل کیا۔ اور پھر وہ 1958 وہ گھر خریدا،جس گھر میں رہا ہے۔ پھر اسے ٹییڈ ولیمز کی کتاب دی سائنس آف بیٹنگ ملی۔کتاب کی کور فوٹو پر مصنف خود بیس بال کا بیٹ پکڑ کر کھڑا تھا۔ اور پورے سٹرائیک ز ون کو 77 چوکوں میں تقسیم کیا گیا تھا ٹیڈ لکھتا ہے کہ اس سویٹ پچ پر  400 اسکور کوئی بڑی بات نہیں وران کو اس سے آئیڈیا مل گیا

اگر اس نے ہزار کمپنی بھی اکٹھی کر بھی لیں تو پچاس کو بھی دیکھ نہیں پائے گا۔ اس کو وہ گیند چننا ہوگی جس کو وہ ہٹ کر سکے کے اور سرمایہ کاری میں یہ تھیوری اس نے اپنی ویلیو انویسٹنگ تھیوری کے ساتھ کمبائن کی اور اسے سرکل آف کمپیپٹنس کا نام دیا۔ سرمایہ کاری کرنے کی چال یہ ہے کہ وہاں بیٹھے اور پھر پچ کے بعد پچ دیکھے اور اپنی سویٹ پیلس پر پر انتظار کرے اور تماشائی جتنامرضی زور لگائیں اور گلا پھاڑ کر چلائیں۔ اس نے بس ایک بال کو ہی ہٹ کرنا ہے۔سونگ یو بوم کو ہر صورت نظر انداز کرنا ہے۔ سٹاک مارکیٹ میں کام کرنے میں بہت نشہ تھا ، یہ لیکویڈ  منی کی دنیا تھی خماری سے بچنے کے لیے اس نے اپنے سرکل آف کمپیٹینس میں بہت سارے فلٹر لگا لیے۔ اسے پتہ چل چکا تھا کہ اپنے سرکل میں کیسے کھیلنا ہے. سرکل میں کیا کمبینیشن بنانا ہے ۔ اس بات کی بھی سمجھ آ چکی تھی. صرف اپنے سرکل میں کھیلنا ہے ور باہرسرکل میں کیا ہو رہا ہے اس کی کچھ فکر نہیں کرنی چاہیے اور آپ نے صرف اپنے کنارے  سے سب کچھ حاصل کرنا ہے اور یہ اہم ہے۔ اسی کنارے سے اس نے برکس شائر جیسی بڑی مچھلی کا کیسے شکار کیا اور مینجمنٹ کی چیٹنگ، دھوکہ دہی اور ڈبل کراس کو کیسے ان کے لئے سزا بنایا۔ ملاحظہ کریں! انیس سو باسٹھ میں اس نے برکس ہیتھ وے شائر کے پہلے شیر خریدے یہ ٹیکسٹائل بزنس تھا یوں محسوس ہو رہا تھا جلدی ختم ہو جائے گا،  برکشائر تیزی سے ملوں کوبند کر رہا تھا۔ بند مل وہ اس لیے بیچتے تھے تاکہ کچھ کیپیٹل فری مل سکے تاکہ پھر وہ دوبارہ شیئر خریدیں۔ وارن نے اسی خیال کے تحت شیر خریدے کہ جب ٹینڈر آفر ہوگی تو یہ معمولی منافع پر سب شیر نکال دے گا پھر ایک دن برکشائر کی ہائی مینجمنٹ نے اس سے پوچھا  تم کس قیمت پر اپنا شیر ٹینڈر کرو گے؟ اس نے سچائی پر مبنی جواب 11.50 ڈالردیا۔ برکشائر سے کچھ دنوں بعد  ٹینڈر کی پیشکش سامنے آئی اور یہ گیارہ ڈالر 32 سینٹ کی تھی جو اس سے سستی تھی  اس دھوکے بازی نے اسے پاگل کر دیا۔ لہذا اس نے خطرناک فیصلہ کیا جو انہوں نے کم رقم میں ٹینڈرآفر کیا ،اس نے وہ شیر بھی خریدنا شروع کر دئیے۔ وہ فیصلہ لے چکا تھا کہ ڈبل کراس کو ان ہی سر پر گرا دے گا۔ 1965 تک وارن کے پاس اتنے شیرز ہوگئے تھے کہ کمپنی ان کے کنٹرول میں آ گئی اور اس نے سب سے پہلے وہی ڈبل کراس، جھوٹی اور فراڈ مینجمنٹ فارغ کی۔ اگرچہ یہ جواب دینے اور دیکھنے میں احمقانہ طریقہ لگتا ہے۔  اور وارن کیلئے یہ ماضی کا تجربہ انتہائی ڈروانا، خطرناک پاگل پن ،تکلیف دہ عمل اور احمقانہ غلطی لگتا ہے لیکن وہ اپنے کامیاب ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بتاتا ہے کہ وہ اپنے ماضی کا اندازہ لگانے میں سفاک ہے۔ وہ غلط فہمیوں کی نشاندہی کرتا ہے پھر مستقبل میں ان سے بچنا چاہتا ہے۔ چارلی منگر(پارٹنر) اس بارے میں بتاتا ہے ۔ وارن  نے برکشائر ہیتھوے کا انتخاب کیا ہے اگر چیئرمین نے دھوکا دینے کی کوشش نہ کی ہوتی تو وارن بفٹ اور برکشائر ہیتھوے کی کوئی تاریخ نہیں ہوتی! اور یہی اس کی تھیوری بعد میں دنیا کے لئے ضرب المثل بنی

If you cannot control emotions then you can’t control the money (جاری ہے….) (To be continued….)

 پس تحریر میں نے اب تک جو چند وارن بفٹ کے پوائنٹس لکھے ہیں  چھٹے حصے میں کچھ اور بزنس پوائنٹس  کا اضافہ ہوگا۔ اور اس کی چھوٹی سی کہانی، مثال، تصویر اعدادوشمار، اور تشریح بھی ہوگی لیکن ظاہر ہے کہ میں اس کی بہت لمبی ڈیٹیل میں نہیں جا سکتا نہیں تو تحریر خشک, بے جان اور پھیکی ہو جائے گی لیکن آپ کو اپنی ذاتی رائے سے ضرور آگاہ کروں گا وارن بفٹ کا یہ  شاہکار ماڈل منی مینجمنٹ کی تاریخ میں نے آج تک نہیں دیکھا۔ میں نے نہ صرف اسے پڑھا بلکہ یاد کیا پھر اپنے اندر بھی اتار لیا۔ آپ اگر یہ ماڈل سمجھنا اور پڑھنا چاہتے ہیں۔ تو آپ اس رائٹر کی دونوں کتب کو ضرور پڑھیے گا۔

1. The Warn Buffet way.
Written by
Robert G Hagstrom
2. The warn Buffett portfolio
Written by
Robert G Hagstrom۔

اور اگر آپ کے پاس وقت نہیں ہے تو پھر چھٹا, ساتواں اور آٹھواں حصہ مس مت کیجئے گا۔ اس میں 19 کتابوں کے نچوڑ کے علاوہ ایک سرپرائز بھی ہے مزید پس تحریر:- برکشائر ہیتھوے کی ساڑھے چار فٹ چوڑی اور 90 فٹ لمبی لابی۔ جس پر مینجمنٹ ٹیم نے کروڑوں روپے کی انٹییریر ڈیزائننگ کی۔ وہاں آج بھی تین پرانی چیزیں چسپاں ہیں انہی میں آخری چیز لابی میں داخل ہوتے ہیں جھولتی ہوئی لکڑی کے اس ٹکڑے پر وارن بفٹ کو بہت ہی خوبصورت انوکھے اور دلچسپ انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔

ڈھیروں دعائیں- بہت پیار حماد رضا عبداللہ گارڈن۔ فیصل آباد

Leave a Reply

Your email address will not be published.